غزہ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سیاسی شعبے کے رکن اور جماع کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر صلاح الدین بردویل نے کہا ہے کہ فلسطینی وزیراعظم رامی الحمد اللہ کے قافلے پر ہونے والے حملے میں کی تحقیقات جاری ہیں۔ ان تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق قطر کے الجزیرہ ٹی وی کودیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ فلسطینی تحقیقات ٹیموں کی طرف سے وزیراعظم کے قافلے پر حملے کی تحقیقات جاری ہیں اور اس میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ایک سوال کے جواب میں صلاح الدین بردویل کا کہنا تھا کہ حماس وزیراعظم کے قافلے پر حملے کی تحقیقات میں سیکیورٹی اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کررہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم رامی الحمد اللہ کے قافلے پر دھماکے کے حوالے سے کئی پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ اس دھماکے پیچھے فلسطین دشمن قوتوں کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ فلسطینی قوم کے دُشمن ان دھماکوں کے پیچھے ہیں۔ اس واقعے کے کا مقصد حماس کو بدنام کرنا، فلسطینی قوم کی مصالحتی مساعی کو تباہ کرنا اور فلسطینی یکجہتی کی کوششوں کو نقصان پہنچانا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں بردویل کا کہنا تھا کہ حماس کا وفد فلسطینی مصالحتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے جلد مصر روانہ ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ حماس کے پاس وزیراعظم رامی الحمد اللہ کے قافلے پر دھماکے کے حوالے سے معلومات موجود ہیں۔
صلاح الدین برویل کا کہنا تھا کہ وزیراعظم رامی الحمد اللہ کے قافلے پر حملے میں ایک خفیہ موبائل فون استعمال کیا گیا۔ اس سلسلے میں غزہ میں فلسطینی موبائل کمپنی نے غرب اردن میں حکام سے مدد طلب کی مگر کمپنی کو اس بارے میں کسی قسم کی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
حماس کے سیاسی شعبے کے رکن کا کہنا تھا کہ رامی الحمد اللہ کے قافلے پر حملے میں حماس کو مورد الزام ٹھہرانا حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔
حماس رہنما نے قطری ٹی وی کو دیے گئے انٹرویومیں غزہ کی پٹی کی موجودہ صورت حال، فلسطینیوں کے درمیان مفاہمتی مساعی کو آگے بڑھانے، غزہ پر فلسطینی صدر محمود عباس کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں اور دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
