غزہ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہÂ غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی طرف سے مسلط کردہ محاصرے کے نتیجے میں اہالیان غزہ 72 فی صد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق ’اوچا‘ کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ 11 سال سے غزہ کی پٹی کے عوام غذائی تحفظ کا شکار ہیں۔ آج یہ شرح بڑھ کر 72 فی صد تک جا پہنچی ہے۔عالمی امدادی ادارے کے مطابق غزہ کے اسی فی صد لوگ باہر سے آنے والی امداد کے سہارے زندہ ہیں جس میں زیادہ تر غذائی امداد ہوتی ہے۔
اسرائیل نے عالمی قوانین اور ضابطوں کو پامال کرتے ہوئے سن دو ہزار چھے سے غزہ کا محاصرہ کر رکھا ہے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کے عوام کو عالمی معیارکے مطابق خوراک دستیاب نہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی بار بار جنگوں، مسلسل معاشی ناکہ بندی اور زرعی بنیادی ڈھانچے کی تباہی نے غزہ کی پٹی میں خوراک کے تحفظ پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ غزہ کی پٹی میں زرعی اجناس کی پیداوار میں 50 فی صد کمی آئی ہے۔ بے روزگاری کی شرح 45 فی صد ہے جو کہ دنیا بھر میں ایک ریکارڈ ہے۔
غزہ کی پٹی میں آبی وسائل اور فشریز میں بھی 54 فی صد کمی آئی ہے۔ اسرائیلی بمباری سے غزہ میں 800 زرعی چشمےاور 30 فی صد زرعی اراضی تباہ کردی ہے۔
