جنین (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر جنین میں ایک فلسطینی نوجوان نے پانی کار اسرائیلی فوجیوں پر چڑھا دی جس کے نتیجے میں کم سے کم دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔
اسرائیل کے عبرانی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ٹی وی 14 کے مطابق غرب اردن کے شمالی شہر جنین میں مفتو دوتان صیہونی کالونی کے داخلی راستے پر ایک فلسطینی شہری نے اپنی کار اسرائیلی فوجیوں پر چڑھا دی جس کے نتیجے میں دو اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔بعد ازاں عبرانی ٹی وی 10 نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ زخمی ہونے والے دو فوجیوں میں سے ایک کی حالت تشویش ناک ہے اور اسے آئی سی یو میں داخل کیا گیا ہے۔
اسرائیل کے عبرانی ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی نوجوان کی گاڑی کی ٹکر سے زخمی ہونے والے دو اسرائیلی فوجیوں میں سے ایک بعد میں دم توڑگیا تاہم سرکاری سطح پر موت کی تصدیق نہیں کی گئی۔
عبرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی فوج نے حملہ آور کو زخمی حالت میں حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔
واقعے کے فوری بعد اسرائیلی فوج کی ایمبولینسیں اور ہیلی کاپٹر بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے تھے۔
عبرانی ٹی وی 10 کے مطابق حملہ آور کو معمولی زخم آئے ہیں۔ اس کا تعلق جنین کے شمال مغربی قصبے برطعہ سے ہے اور اس کی شناخت اللکباہ کے نام سے کی گئی ہے۔ اللکباہ سابق اسیر ہے اور اسے ایک سال قبل اسرائیلی جیل سے رہا کیا گیا تھا۔
عبرانی ٹی وی 14 کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والے اہلکار ’کیدم‘ بریگیڈ‘ سے تعلق رکھتے ہیں۔
ادھر اسرائیلی فوج کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جنین میں ہونے والی کارروائی فدائی حملہ معلوم ہوتی ہے۔ حملہ آور ماضی میں بھی کئی مزاحمتی کارروائیوں میں ملوث رہ چکا ہے۔
عبرانی ذرائع کے مطابق علاء راتب اللکباہ کی شناخت کے بعد اس کے گھر پر چھاپے مارے گئے ہیں اور صیہونی فوج نے گھر میں گھس کر توڑپھوڑ اور اہل خانہ کو بھی زدو کوب کیا ہے۔
اسرائیل نے حملہ آور شخص کے خاندان پر روزگار، تجارت اور اسرائیل آمد و رفت پر پابندی عائد کرتے ہوئے تمام پرمٹ معطل کر دیئے ہیں ۔ اسرائیل کے وزیر دفاع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں حملے کی مذمت کرتے ہوئے حملہ آور نوجوان کے لیے سزائے موت اور اس کا گھر مسمار کرنے کی تجویز دی ہے۔
اللکباہ کو 11 ماہ قبل اسرائیلی جیل سے ڈیڑھ سال قید کے بعد رہا کیا گیا تھا۔
