فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق عبرانی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسٹیٹ کنٹرولر کی طرف سے غزہ کی پٹی پر جولائی اور اگست 2014ء کو مسلط کی گئی جنگ کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔ تفصیلی رپورٹ میں کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے زمینی، فضائی، بحری اطراف سے کیے گئے حملوں میں بڑی تعداد میں فلسطینی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، ہزاروں کی تعداد میں معذور یا اپاہج ہوئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2014ء کی جنگ میں اسرائیل کا’ہینیگل‘ سسٹم کئی خرابیوں کی زد میں رہا۔ اسرائیلی فوج کی پیشہ وارانہ کمزوریوں کے نتیجے میں فلسطینی شہریوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا جبکہ اسرائیلی فوج بھی اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکی ہے۔
خیال رہے کہ ’ہینیگل‘ نظام اسرائیل کی ایک ایسی دفاع پالیسی ہے جس کے تحت صیہونی ریاست خطرے کی صورت میں فلسطینی مزاحمت کاروں سے بچنے کے لیے چاروں اطراف میں اندھا دھند گولیاں برساتی ہے۔ حتیٰ کہ فائرنگ میں اگر اسرائیلی فوجیوں کو بھی نقصان اٹھانا پڑتا ہے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس کا مقصد اسرائیلی فوجیوں کو فلسطینی مزاحمت کاروں کے ہاتھوں گرفتار ہونے سے روکنا ہوتا ہے۔
اسٹیٹ کنٹرول یوسف شابیرا کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’ہینیگل‘ پالیسی کے باوجود اسرائیلی فوج اپنے اہلکاروں کو فلسطینیوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے جانے سے نہیں بچا سکی۔ اس کے علاوہ جنگ میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے ہاتھوں زخمی ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کو بچانے کے لیے بھی فوج کے پاس محاذ جنگ پر خاطر خواہ انتظامات نہیں تھے۔
خیال رہے کہ اسرائیل نے سنہ 2014ء کو غزہ کی پٹی پر 51 دن تک وحشیانہ جنگ مسلط کیے رکھی تھی۔ اس جنگ میں 2300 فلسطینی شہید اور گیارہ ہزار سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ ہزاروں کی تعداد میں مکانات تباہ اور بنیادی ڈھانچے کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا تھا۔
