مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیلی حکومت سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے مطالبے سے دست بردار ہونے پر غور کررہی ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق وزارت خارجہ کے ایک ذمہ دار ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکومت سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے مطالبے سے دست بردار ہونے پر غور کررہی ہے۔اسرائیلی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی تک حکومت نے سلامتی کونسل کی مستقبل رکنیت کے لیے مطلوبہ مہم شروع نہیں۔ وزارت خارجہ کے عملے کا کہنا ہے کہ ملک میں انتخابات کا امکان مزید بڑھ گیا۔ اس لیے موجودہ حکومت سلامتی کونسل میں کسی پیش رفت میں زیادہ دلچسپی نہیں لے رہی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا تاہم وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں اسرائیل سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے حصول میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔
عبرانی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بیلجیم اور جرمنی نے اسرائیل کی طرف سے سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت سے دست برداری کے مطالبے کو مسترد کردیا ہے۔
آئندہ سال جون میں سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے چناؤ کے لیے اسرائیل نے ابھی تک مؤثر حصہ نہیں لیا۔ نیتن یاھو جو وزارت عظمیٰ کے منصب کے ساتھ ساتھ وزارت خارجہ کا قلمدان بھی سنھبالے ہوئے ہیں فی الحال سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے حصول میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے۔
سلامتی کونسل کئ دو سیٹوں پر جرمنی، بیلجیم اور اسرائیل کے درمیان مقابلہ متوقع ہے۔ سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے حصول کے لیے جنرل اسمبلی کے دو تہائی ارکان کی حمایت ضروری ہے مگر اسرائیل جنرل اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔
