الخلیل (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی جیل میں قید فلسطینی کی مسلسل بگڑتی صحت اور اسرائیلی جیلروں کی مجرمانہ غفلت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسیران اسٹڈی سینٹر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 34 سالہ منصور یوسف شحاتیت کئی سنگین اور جان لیوا امراض کا شکار ہیں۔ غرب اردن کے جنوبی شہر الخلیل کے دورا کے علاقے سے تعلق رکھنے والے شحاتیت کو بنیادی انسانی حقوق بھی میسر نہیں ہیں۔انسانی حقوق گروپ کا کہنا ہے کہ شحاتیت نے اسیری کے 15سال مکمل کرنے کے بعد سولہویں میں قدم رکھا ہے۔ ان کی اسیری کے سولہ سال مسلسل اذیت اور پریشانی کے ہیں۔ وہ سنگین نفسیاتی اور جسمانی امراض میں مبتلا ہیں۔ اس دوران صیہونی جیلروں کی طرف سے انہیں کسی قسم کے علاج معالجے کی سہولت مہیا نہیں کی گئی۔
انسانی حقوق کے مندوب ریاض الاشقر کا کہنا ہے کہ شحاتیت کو اسرائیلی فوج نے 11 مارچ 2013ء کو حراست میں لیا۔ انہیں 17 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان پر بئرسبع شہر میں ایک صیہونی آباد کار پر چاقو سے حملہ کرکے اسے زخمی کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
گرفتاری کے بعد کئی مہینوں تک اسے اذیت ناک تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
