مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی زندانوں میں پابند سلاسل 46 سالہ فلسطینی اسیر اور دنیا کے سب سے طویل قید کے سزایافتہ رہنما عباللہ غالب عبداللہ البرغوثی کی اسیری کے 15 سال مکمل ہوگئے ہیں جس کے بعد وہ اپنی اسیری کے 16 سال میں داخل ہوگئے ہیں۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق 46 سالہ عبداللہ البرغوثی کو 67 بار عمر قید کی سزاؤں کا سامنا ہے۔فلسطینی اسیران اسٹڈی سینٹر کے ترجمان اور محقق ریاض الاشقر نے بتایا کہ عبداللہ البرغوثی کو اسرائیلی فوج نے 5 مارچ 2003ء کو اغواء کیا تھا۔ ان کی گرفتاری رام اللہ کے ایک اسپتال کے باہر سے عمل میں لائی گئی۔ اس وقت وہ اپنی ایک بیٹی کے علاج کے لیے اسپتال میں تھے۔ وہ اپنی بیٹی کو اسپتال میں چیک اپ کرانے کے بعد گھر جا رہے تھے کہ اسرائیلی فوج نے انہیں حراست میں لے لیا جب کہ ان کی بیٹی کو تن تنہا سڑک پر چھوڑ دیا گیا۔
حراست میں لیے جانے کے بعد چھ ماہ تک انہیں مسلسل اذیتیں دی گئیں۔ صیہونی فوج نے ان پر متعدد فدائی حملوں میں ملوث ہونے اور دسیوں صیہونیوں کو ہلاک کرنے کا الزام عائد کیا۔ اسی الزام کے تحت ان پر مقدمہ چلایا گیا۔ جیل میں انہیں قید تنہائی میں ڈال دیا گیا مگر انہوں نے سنہ 2012ء میں قید تنہائی کے خلاف بھوک ہڑتال کی جو 28 روز تک جاری رہی۔ اس کے بعد ان کی قید تنہائی ختم کردی گئی۔
ریاض الاشقر نے بتایا کہ عبداللہ البرغوثی دنیا کے سب سے طویل قید کے سزا یافتہ قیدی ہیں۔ انہیں صیہونی فوجیوں اور آباد کاروں کو قتل یا زخمی کرنے کے الزام میں 67 بار عمر قید کی سزا کا سامنا ہے۔ ان پر 109 مختلف فرد ہائے جرم عائد کی گئیں۔ ان کا نام سنہ 2011ء میں اسرائیلی جیلوں سے رہائی کے لیے پیش کردہ فہرست میں شامل کیا گیا۔ یہ فہرست اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کی رہائی کے بدلے میں پیش کی گئی تھی تاہم صیہونی فوج نے انہیں رہا کرنے سے انکار کردیا تھا۔
ان پر مجموعی طورپر 66 صیہونیوں کو ہلاک اور 500 کو زخمی کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
سنہ 2014ء میں انہوں نے 100 دن تک مسلسل بھوک ہڑتال کی تھی۔ اس بھوک ہڑتال کا مقصد اسیران کو درپیش مشکلات کو کم کرنے کا مطالبہ کرنا تھا۔ اس بھوک ہڑتال میں ان کی صحت بری طرح خراب ہوئی اور وہ کئی جسمانی عوارض کا بھی شکار ہوئے۔
انہیں ایک سے دوسرے قید خانے میں ڈالنے کا عمل جاری رہتا ہے۔ ان کے بچوں کو ان سے 20 منٹ سے زیادہ ملنے کی اجازت نہیں۔
