گوئٹے مالا (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) گوئٹے مالا کی سپریم دستوری عدالت نے صدر جمی مورلیس کے اسرائیل میں قائم اپنے سفارت خانے کو بیت المقدس منتقلی کے اعلان کو معطل کردیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق تنظیم آزادی فلسطین کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کے کارکنوں نے تل ابیب میں قائم سفارت خانے کی القدس منتقلی کے اعلان کے خلاف گوئٹے مالا کی سپریم دستوری عدالت میں ایک درخواست دی گئی۔انسانی حقوق کارکن اور قانون دان مارکو فینیسیو میخیا ڈافیلا کی قیادت میں سماجی کارکنوں کے ایک گروپ طرف سے دی گئی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے گوئٹے مالا کے صدر کے اس اعلان پرعمل درآمد معطل کرنے کا حکم دیا ہے جس میں انہوں نے اسرائیل میں قائم اپنے سفارتخانے کو بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔
خیال رہے وسطی امریکی ملک گوئٹے مالا بھی مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کے حوالے کرنے کی امریکی سازش میں صیہونیوں اور امریکیوں کے ساتھ مل گیا ہے۔ چند روز قبل جمہوریہ گوئٹے مالا کے صدر جمی موریلس نے اسرائیل میں موجود اپنے سفارت خانے کو بیت المقدسÂ منتقل کرنے کا حکم دیاÂ تھا۔
اکیس دسمبرکو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے وہ قرارداد منظور کی تھی جس میں امریکا سے کہا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس یا مشرقی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان واپس لے۔ اس قرارداد کے بعد گوئٹے مالا پہلا ملک ہے جس نے کھلم کھلا اس قرارداد کی توہین کی ہے۔
اس قرارداد کے حق میں 129 ممالک نے ووٹ دیا، 35 نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جبکہ نو نے اس قرارداد کی مخالفت کی۔
فیس بک پوسٹ میں صدر جمی موریلس نے کہا کہ انھوں نے یہ فیصلہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے بات کرنے کے بعد کیا ہے۔
گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ میں امریکا کی القدس سے متعلق قراداد کے حق میں ووٹ دینے والے فقط سات ممالک میں سے ایک گوئٹے مالا بھی تھا۔ اس موقع پرصدرٹرمپ نے مخالفت کرنے والے ممالک کو امداد بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔
وسطی امریکا کے غریب ملک گوئٹے مالا کو امداد دینے والے اہم ممالک میں امریکا بھی شامل ہے۔
اتوار کو اپنے بیان میں صدر مویلس نے کہا کہ انھوں نے متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ وہ ملک کا سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے سے پہلے ضروری اور متعلقہ اقدامات کر لیں۔Â انھوں نے یہ بھی کہا کہ گوئٹے مالا اسرائیل کا دیرینہ دوست ہے۔
اقوام متحدہ میں مختلف ممالک کے سفیروں نےالقدس کواسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کے خلاف جنرل اسمبلی میں قرارداد منظور ہونے کے بعد کہا تھا کہ امریکا کو ایسا فیصلہ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔
