نابلس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین کے دیگر شہروں کی طرح وادی اردن کا علاقہ بھی صیہونی توسیع پسندی اور آباد کاری کی زد میں ہے۔ وادی اردن میں پہلے ہی استحصال کے شکار فلسطینیوں کی زندگی اجیرن ہوگئی تھی، علاقے میں قائم کی گئی پانچ صیہونی کالونیوں نے مکینوں پر ایک نئی مصیبت مسلط کردی ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مقامی فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ صیہونی ریاست نے ایک سازش کے تحت وادی اردن کو صیہونی آباد کاری کا نیا مرکز بنا دیا ہے۔ساٹھ سالہ فلطسینی فتحی دراغمہ نے کہا کہ شمالی غرب اردن اور وادی اردن کے شمالی علاقوں میں فلسطینیوں کی مشکلات 60 سال پر محیط ہیں۔ اہل علاقہ گذشتہ چھ عشروں سے صیہونی ریاست کے مظالم کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی فوج فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کرتی ہے اور وہ پھر بنا لیتے ہیں۔ یوں مسماری اور تعمیر کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وادی اردن بالخصوص عین الحلوہ کے علاقے میں رہنے والے فلسطینی دیہاتی بنیادی انسانی سہولیات سے محروم ہیں۔ کچی جھونپڑپوں میں گذر اوقات کرنے والے فلسطینیوں کو نہ توسڑکوں کی سہولت ہے، نہ اسپتالوں اور تعلیمی سہولیات میسر ہیں۔
اس کے مقابلے میں غرب اردن میں قائم کی گئی صیہونی کالونیوں کے آباد کاروں کو ہرطرح کی سہولت حاصل ہے، مگر فلسطینیوں کے ساتھ مسلسل امتیازی سلوک جاری ہے۔
خیال رہے کہ عین الحلوہ کا علاقہ وادی اردن کے اقصیٰ شمال میں مشرفہ ٹیلے کے قریب واقع ہے۔ وہاں سے سنہ 1948ء اور غرب اردن کے علاقوں کے درمیان تعمیر کی گئی دیوار فاصل صرف تین کلو میٹر کے فاصلے پرواقع ہے۔ یہ دیوار فلسطینی علاقے کے 2000 دونم پر موجود ہے۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ شمالی وادی اردن کے ان قصبوں کی آبادی ’طابو‘ میں رجسٹرڈ ہے جب کہ عین الحلوہ کی آبادی 500 نفوس پر مشتمل ہے۔ ان میں سے زیادہ تر الفقہا خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ غرب اردن کے سیکٹر بی میں مشرق کی سمت میں عین البیضا بھی ان علاقوں میں شامل ہے جس کی فلسطینی آبادی صیہونی ریاست کی انتقامی پالیسی کا شکار ہے۔
دراغمہ نے بتایا کہ علاقے کے فلسطینی مکینوں کی زندگی انتہائی مشکل سے گذرتی ہے۔ پانچ صیہونی کالونیوں نے شمالی وادی اردن کو گھیرے میں لیے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے کیمپ اور چھاؤنیاں اس کے سوال ہیں۔ اطراف میں پھیلے کھیتوں پر اسرائیلی فوج نے بڑی تعداد میں بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شمالی وادی اردن کے علاقے کردلہ کے باشندوں کے بنیادی حقوق کی کھلے عام توہین کی جاتی ہے۔انہیں بنیادی انسانی سہولیات اور حقوق حاصل نہیں۔
شمالی وادی اردن کے علاقوں میں مجموعی طورپر 500 فلسطینی خاندان آباد ہیں جو خیموں، کچی جھونپڑیوں اور مٹی کے بنے گھروں میں رہتے ہیں۔ اسرائیلی فوج ان کے گھروں کو مسمار کرتی رہتی ہے اور وہ پھر تعمیر کرلیتے ہیں۔
فلسطینی تھینک ٹینک ’عبداللہ الحورانی اسٹڈی سینٹر‘ کی رپورٹ کے مطابق وادی اردن کے انتہائی اہمیت کے حامل علاقے کا مجموعی طورپر 7 ہزار 518 دونم کا رقبہ اسرائیل نے غصب کررکھا ہے۔ یہاں پر قائم کی گئی صیہونی کالونیوں میں 2000 آباد کار موجود ہیں۔
عین المالح کی مقامی کونسل کے رکن مہدی دراغمہ کا کہنا ہے کہ مقامی فلسطینی آبادی کی اکثریت گلہ بانی پیشہ ہے۔ مقامی شہریوں کو سب سے بڑی مشکل چراگاہوں کی قلت ہے۔ اس کے علاوہ پانی کے ذخائرصیہونی ریاست کا غاصبانہ قبضہ، بنیادی ڈھانچے کا نہ ہونا اور صیہونی کالونیوں کے باعث امن ومان کا فقدان ہے۔
