مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین کے سنہ 1948ء کے مقبوضہ علاقوں میں قائم اسلامی تحریک کے سربراہ اور بزرگ فلسطینی رہنما الشیخ رائد صلاح کو آج جمعرات کو دوبارہ اسرائیلی مرکزی عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ امکان ہے کہ انہیں اسرائیلی عدالت مزید چھ ماہ کے لیے قید تنہائی میں ڈالنے کا حکم صادر کرے گی۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق الشیخ رائد صلاح کے وکیل خالد زبارقہ نے ’فیس بک‘ پرپوسٹ ایک بیان میں الشیخ رائد صلاح کے حوالے سے متوقع اسرائیلی فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صیہونی ریاست الشیخ رائد صلاح سے خوف زدہ ہے اور انہیں انتقامی کارروائی کے تحت قید تنہائی کے تحت پابند سلاسل کررہی ہے۔خالد زبارقہ کا کہنا تھا ان کے موکل پرعزم ہیں اور ان شاء اللہ وہی سرخروÂ ہوں گے۔ فلسطینی قانون دان کا کہنا تھا کہ ان کے موکل اسرائیلی حکام کی رعونت اور سفاکیت کا پوری قوت کے ساتھ مقابلہ کررہے ہیں۔ صیہونیوں کے باطل دعوؤں کے سامنے الشیخ رائد صلاح فتح مند ہوں گے۔
قبل ازیں اسرائیلی پولیس الشیخ رائد صلاح کے خلاف اسرائیلی عدالت میں ایک درخواست دائر کرچکی ہے جس میں انہیں مزید چھ ماہ کے لیے قید تنہائی میں ڈالنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ الشیخ رائد صلاح غیرمعمولی طورپر فلسطینیوں میں مقبول ہیں۔
اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ الشیخ رائد صلاح اسرائیل کے خلاف نفرت پھیلانے والی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ساتھ ساتھ ممنوعہ تنظیموں اور خلاف قانون اداروںÂ کی قیادت کرتے رہے ہیں۔ ان کا اشارہ اسلامی تحریک کی طرف تھا۔
خیال رہے کہ الشیخ رائد صلاح کو اسرائیلی فوج نے اگست 2017ء کو حراست میں لیا تھا۔ ان پر مسجد اقصیٰ کے دفاع ، القدس کی حمایت اور اسرائیل کے خلاف سرگرمیوں میں حصہ لینے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
