• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

شہداء واسیران کے حقوق غصب کرنے کا قانون صیہونی’مالی قذاقی‘ ہے

ہفتہ 10-02-2018
in فلسطین
0
0Pala10143
0
SHARES
0
VIEWS

مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطینی محکمہ امور اسیران کے سربراہ عیسیٰ قراقع نے اسرائیلی حکومت کی جانب سے فلسطینی شہداء اسیران کے اہل خانہ کو دی جانے والی مالی امداد رکونے کے لیے قانون سازی کو صیہونی ریاست کی ’مالی قذاقی‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینی قوم اسرائیلی ریاست کی بلیک میلنگ اور دباؤ کا شکار نہیں ہوگی۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق عیسیٰ قراقع نے ایک بیان میں کہا کہ صیہونی ریاست کی جانب سے مکروہ حربوں کے ذریعے فلسطینی شہداء ، اسیران اور زخمیوں کے اہل خانہ کو مداد سے نہیں روکا جاسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل امریکی حمایت  کے ساتھ فلسطینی شہداء کے یتیم بچوں، بیواؤں، اسرائیلی دہشت گردی میں ہونے والے زخمیوں اور اسیران کی کفالت سے محروم رکھنے کی مجرمانہ کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے فلسطینی اسیران اور شہداء کی امداد کی آڑ میں فلسطینیوں کے ٹیکس روکنے کو صیہونی ریاست کی معاشی قذاقی فلسطینی قوم کے مالی حقوق پر ڈاکہ زنی قرار دیا۔

خیال رہے کہ حال ہی میں اسرائیلی حکومت نے شدت پسند وزیر دفاع آوی گیڈور لائبرمین کی سفارش پر فلسطینی شہداء اور اسیران کے معاشی حقوق پر ایک نیا ڈاکہ مارنے کی کوششیں شروع کی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں ایک نیا بل لانے کی تیاری کررہی ہے۔ اس بل کی منظوری کے بعد فلسطینی اتھارٹی کو دی جانے والی رقوم کا ایک بڑا حصہ صیہونی ریاست غصب کرے گی۔ وہ رقوم فلسطینی  اتھارٹی کو ادا کرنے کے بجائے فلسطینیوں کی مزاحمتی کارروائیوں سے متاثر ہونے والے صیہونیوں کو ادا کی جائے گی۔

اسرائیلی وزارت دفاع کی طرف سے پارلیمنٹ میں پیشی کے لیے تیار کردہ بل کو ’تخریب کاروں کی تنخواہوں کی کٹوتی‘ کا نام دیا ہے۔ اس قانون کی منظوری کے بعد فلسطینی اتھارٹی کو ادا کی جانے والی امداد کا ایک بڑا حصہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے حملوں سے متاثرہ صیہونی آباد کاروں کو دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزارت دفاع یہ دعویٰ کرچکی ہے کہ فلسطینی اتھارٹی فلسطینی شہداء اور اسیران کے اہل خانہ کو سالان ایک ارب بیس کروڑ شیکل کی رقم بہ طور امداد ادا کی جاتی ہے۔

صیہونی حکام کا کہنا ہے کہ عمر قید کے ایک فلسطینی قیدی جس کے تین بچے ہیں کے اہل خانہ کو دس ہزار 950 شیکل کی رقم ادا کی جائے گی۔

اسرائیلی وزارت دفاع کے مطابق سنہ دو ہزار سترہ کے دوران فلسطینی اتھارٹی نے اسیران اور شہداء کے اہل خانہ کو 550 ملین شیکل کی رقم ادا کی۔

Tags: americafacebookgamesgazagoogleisraelisraelijerusalemkillerlondonMatrixnebluspalestineparisramallahThirdIntifadatrumpUnitedForPalestinewashingtonwestbankyoutubezionistzombieشہداء واسیران کے حقوق غصب کرنے کا قانون صیہونی’مالی قذاقی‘ ہے
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.