نیویارک (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے غزہ کی انسانی و اقتصادی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صیہونی حکومت اور فلسطینیوں کے درمیان تنازعہ ختم کرانے سے متعلق دو حکومتوں کی تشکیل کے حل پر پہنچنے کے لئے کوششیں جاری رکھے جانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوترش نے فلسطینی عوام کے حقوق سے متعلق کمیٹی کے اجلاس میں کہا ہے کہ غزہ کے محصور عوام کو امداد پہنچانے میں مسلسل رکاوٹ کی صورت میں مستقبل قریب میں اس علاقے کو انسانی المیے کا سامنا کرنا پڑ جائے گا۔اقوام متحدہ کے حکام نے پیش گوئی کی ہے کہ صورت حال کو بہتر بنانے اور بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اگر کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا تو سنہ 2020 تک غزہ میں زندگی بسر کرنا دوبھر ہو جائے گا۔یہ ایسی حالت میں ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے بیان کے مطابق راستے بند کر دیئے جانے اور مسائل و مشکلات جاری رہنے سے غزہ میں انسان دوستانہ امداد کی فراہمی میں پائی جانے والی تشویش کی بنا پر یہ علاقہ اس وقت شدید بحران سے دوچار ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوترش نے امریکا کے ذریعے بے گھر فلسطینیوں کی امداد کی ایجنسی کے بجٹ میں کمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد میں اس ایجنسی کی ناتوانی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے خبردار کیا ہے کہ فلسطین کے مقبوضہ علاقوں اور اسی طرح اردن، شام اور لبنان میں فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد و خدمات میں اس ایجنسی کی ناتوانی جاری رہنے کی صورت میں پورے علاقے کا استحکام مسائل و مشکلات سے دوچار ہو جائے گا۔انھوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی امداد و تعاون جاری رکھ کر سخت و تلخ انسانی واقعات کے جنم لینے لینے کی روک تھام کرے۔
قابل ذکر ہے کہ فلسطینی عوام کے حقوق سے متعلق کمیٹی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے 1975 میں بنی ہے۔یہ ایسی حالت میں ہے کہ فلسطین میں 2006 کے پارلیمانی انتخابات میں فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کی کامیابی کے بعد سے غاصب صیہونی حکومت نے غزہ کا سخت محاصرہ کر رکھا ہے اور اس علاقے میں وہ ادویات ، ایندھن اور مکانات کی تعمیر کا سامان منتقل کئے جانے کی روک تھام کر رہی ہے جس سے اس علاقے میں صورت حال سخت پیچیدہ اور بحرانی ہو گئی ہے۔
