الخلیل ( فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات ) فلسطین میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی فوج کا فلسطینیوں کے خلاف وحشیانہ کریک ڈاؤن جاری ہے۔ جنوری 2018ء کے دوران اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں 92 بچوں اور 18 خواتین اور بچیوں سمیت 520 فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسیران اسٹڈی سینٹر کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صیہونی فوج نے غزہ کی پٹی سے چھ ماہی گیروں سمیت 18 فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا۔انسانی حقوق گروپ کے ترجمان ریاض الاشقر نے بتایا کہ بیت لحم میں اسرائیلی فوج نے 18 سالہ ایک معذور فلسطینیÂ ھشام محمد غنیم کو حراست میں لیا۔ اس کے علاہ جنوری میں 53 سالہ رکن پارلیمان عمر محمود عبدالرزاق کو حراست میں لیا۔
ریاض الاشقر کا کہنا تھا کہ صیہونی فوج نے جنوری 2018ء کے دوران 92 فلسطینی بچوں کو حراست میں لیا۔ ان میں 11 سالہ سعید مزید سکر،تین زخمی بچے احمد زقزوق، محمد فرحان الحج، جنوبی نابلس سے زعترہ کے مقام سے احمد عیسیٰ شلالدہ کو حراست میں لے لیا۔
جنوری میں حراست میں لی گئی 18 خواتین میں 3 سگی بہنیں مسجد ابراہیمی کے قریب سے حراست میں لی گئیں ۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ مسجد ابراہیمی کے قریب سے گرفتار کی گئی خواتین کے قبضے سے چاقو برآمد کی گئی ہیں۔
