بیت لحم (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطینی سماجی کارکنوں نے گذشتہ روز فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر بیت لحم میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ان کے نائب مائیک پینس اور صیہونی ریاست کے جنگی مجرم لیڈروں کا علامتی ٹرائل کیا اور انہیں علامتی سزائے موت دی گئی۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فلسطینی سماجی کارکنان نے ٹرمپ، ان کے نائب مائیک پینس اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے مجسموں پران کی تصاویر پوسٹ کرنے کے بعد ان کے نسل پرستانہ اقدامات پرعلامتی پھانسی دی گئی۔تمام مجسموں کو عائدہ پناہ گزین کیمپ میں فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کی علامت’کلید‘ کے قریب ایک چوک میں پھانسی دی گئی۔ اس موقع پر عائدہ، الدھیشہ پناہ گزین کیمپ، العزہ اور دیگر قصبوں کی بڑی تعداد جمع تھی۔ امریکی اور صیہونی لیڈروں کی علامتی پھانسیوں کے موقع پر جمع ہونے والے فلسطینیوں نے امریکا اور اسرائیل مردہ باد کے نعرے بھی لگائے۔
ایک مقامی سماجی کارکن احمد عودہ نے بتایا کہ آج ہم جنگی مجرموں کے علامتی ٹرائل سے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو یہ پیغام دے رہے کہ وہ قضیہ فلسطین کا دفاع کریں اور امریکیوں کو فلسطینی سرزمین کو یہودیانے میں صیہونی ریاست کی مدد کرنے کا سلسلہ بند کرائیں۔
عودہ کا کہنا تھا کہ ہم فلسطین میں امریکا اور اسرائیل کی نسل پرستانہ پالیسیوں کے خلاف مزید احتجاجی سرگرمیاں بھی جاری رکھیں گے۔
