فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ’پیو مرکز’ کی رپورٹ میں امریکا میں اسرائیل کے حوالے سے گذشتہ چالیس سال کے دوران ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آج سے چالیس برس پیشتر اسرائیل کی حمایت کے حوالے سے ری پبلیکن اور ڈیموکریٹس کے نقطہ نظر میں کوئی زیادہ فرق نہیں تھا۔ چالیس سال پہلے 49 فی صد ری پبلیکنز اور 44 فی صد ڈیموکریٹس اسرائیل کی حمایت کرتے تھے جب کہ امریکا کے 45 فی صد آزاد خیال اور لبرل بھی اسرائیل کی طرف داری کرنے میں مشہور تھے۔ اس لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ چار عشرے پیشتر بیشتر امریکیوں کا اسرائیل کے بارے میں نقطہ قریب قریب ایک ہی جیسا تھا۔
امریکی ری پبلیکنز میں اسرائیل کی حمایت میں اضافہ سابق صدر جارج بش کے دور سے ہوا اور آج ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں یہ اپنے بام عروج پر پہنچا۔ رواں عشرے کے دوران ڈیموکریٹس کی اسرائیل میں حمایت میں کمی آئی جو اپنی آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔ سنہ 2001ء میں ڈیموکریٹس کی جانب سے فلسطینیوں کی حمایت 25 فی صد تھی جو اس وقت سب سے زیادہ حمایت شمار کی جاتی تھی۔
’پیو مرکز‘ کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا کے لبرل حلقوں کا اسرائیل اور فلسطینیوں کے بارے میں نقطہ نظر ڈیموکریٹس کے خیالات کے قریب ہے۔ دونوں جماعتوں (ری پبلیکن اور ڈیموکریٹس) کے 35 فی صد لبرز فلسطینیوں کے حامی ہیں۔ ان میں لبرل ڈیموکریٹس کی اسرائیل کی طرف داری کرنے والوں کی تعداد 19 فی صد ہے۔ سنہ 2001ء کے بعد یہ کم ترین سطح ہے۔ آج سے دو عشرے قبل لبرلز کی اسرائیل کی حمایت 48 فی صد تھی اور فلسطینیوں کی حمایتیوں کی تعداد صرف 18 فی صد تھی۔
سال 2016ء کے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران ڈیموکریٹس کے امیدوار برنی سنڈرز کو انہی لبرلز کے ووٹوں کی توقع تھی۔ ان کے حامیوں میں فلسطینی نژاد امریکی محجب خاتون لیندا صرصور جیسی خواتین شامل تھیں اور ان کا مقابلہ ہیلری کلنٹن سے تھا۔
سنڈرز نے قضیہ فلسطین کے حامی جیمز زگبی کو جنرل کانگریس کے انعقاد سے قبل ڈیموکریٹک پارٹی کا سیاسی منشور تحریر کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی۔
