عمان (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) سعودی عرب اور مصر نے بیت المقدس کے بارے میں امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلے کا مقابلہ کرنے کے لئے عرب لیگ کا ہنگامی سربراہی اجلاس بلانے کی مخالفت کی ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اردن کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے حوالے سے خبردی ہے کہ اردن نے عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل جو ہفتے کو بیت المقدس کے بارے میں منعقد ہوا تھا تجویز دی تھی کہ بیت المقدس کے بارے میں امریکی صدرٹرمپ کے فیصلے کا مقابلہ کرنے کے لئے عرب لیگ کاہنگامی سربراہی اجلاس بلایا جائے لیکن سعودی عرب اور مصر نے اس کی مخالفت کردی۔سعودی عرب نے اپنی مخالفت میں دلیل دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ مارچ کے مہینے میں عرب لیگ کا معمول کا سربراہی اجلاس ریاض میں ہونے والا ہے اس لئے بیت المقدس کے بارے میں عرب لیگ کا ہنگامی سربراہی اجلاس بلانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکی اور صیہونی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ بیت المقدس کے بارے میں ٹرمپ کے فیصلے کے اعلان کے بعد سعودی عرب نے تجویز پیش کی تھی کہ بیت المقدس کے بجائے فلسطین کا دارالحکومت رام اللہ کو قراردے دیا جائے۔ جبکہ فلسطینیوں اور پوری امت مسلمہ کا متفقہ موقف ہے کہ بیت المقدس فلسطین کا دائمی اور ابدی دارالحکومت ہے۔
