فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مصری وزارت خارجہ کے ترجمان احمد بو زید نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی کنیسٹ سے ’القدس کے اساس قراردیے گئے قانون کی منظوری اسرائیل کی ایک نئی اشتعال انگیزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل القدس کے حوالے سے مسلسل عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ القدس کے حوالے سے اسرائیلی کنیسٹ کا قانون قضیہ فلسطین کے منصفانہ حل کی راہ میں خطرناک رکاوٹ ثابت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ بیت المقدس قضیہ فلسطین کا انتہائی حساس اور نازک مسئلہ ہے جس کے لیے یک طرفہ اقدامات قابل قبول نہیں ہوسکتے۔
خیال رہے کہ یہ متنازع قانون منگل کے روز اسرائیلی کنیسٹ سے منظور کیا گیا۔ اس قانون کے تحت جب تک پارلیمنٹ کےدو تہائی ارکان القدس پر مذاکرات کی اجازت نہ دیں تب تک کوئی حکومت القدس کے معاملے کو چھیڑنے کی مجاز نہیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز اسرائیلی کنیسٹ میں القدس کو یکجا کرنے کے بل پر دوسری اور تیسری رائے شماری کی گئی۔ اس قانون میں کہا گیا ہے کہ مستقبل میں بیت المقدس کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ اس وقت تک نہیں کیا جاسکے گا جب تک پارلیمنٹ کے کم سے کم 80Â ارکان اس کی حمایت نہیں کریں گے۔
مسودہ قانون پر تین گھنٹے تک بحث جاری رہی۔ اس بل میں پہلے سے شامل کی گئی ایک شق ختم کردی گئی۔ اس شق میں القدس بلدیہ کے زیراہتمام فلسطینی اکثریتی کالونیوں کو الگ کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔
رائے شماری کے دوران بل کی حمایت میں 64 ارکان اور مخالفت میں 51 نے ووٹ ڈالا جبکہ صرف ایک رکن کنیسٹ رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔
