مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین کے ممتاز عالم دین اور مسجد اقصیٰ کے خطیب الشیخ عکرمہ صبری نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کو عالم اسلام کے خلاف اشتعال انگیزی قرار دیا ہے جس میں انہوں نے’دیوار براق‘ کو اسرائیل کا حصہ قرار دیا تھا۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اپنے ایک پریس بیان میں الشیخ عکرمہ سعید صبری نے کہا کہ ذرائع ابلاغ میں امریکی حکام بالخصوص صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وہ بیان ناقابل قبول ہے جس میں انہوں نے دیوار براق کو اسرائیل کاحصہ قرار دیا ہے۔الشیخ عکرمہ صبری نے کہا کہ جو شخص اور ملک دیوار براق کو اسرائیل کا حصہ سمجھتا ہے وہÂ جھوٹ اور گھمنڈ کا شکار ہے۔ ایسے فریبی عناصر کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ دیوار براق مسجدا قصٰی کی مغربی دیوار کا حصہ ہے۔ یہ جگہ خالصتا اسلامی وقف کا حصہ اور تا قیامت مسلمانوں کی ملکیت رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں کوئی شخص دیوار براق پر اپنی مرضی سے تصرف کا حق نہیں رکھتا۔ چاہے وہ مسلمان یو یا غیر مسلم، امریکا یو یا کوئی ارو ملک اس کے القدس اور دیوار براق کے حوالے سے تصرفات باطل ہوں گے۔
ڈاکٹر عکرمہ صبری نے جبل زیتون کی چوٹی پر یہودیوں کے لیے ایک بڑے معبد کی تعمیر کو صیہونیوں کی تازہ ترین اشتعال انگیزی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ سنہ 1967ء سے قبل القدس میں صیہونیوں کی عبادت گاہوں کا کوئی وجود نہیں تھا۔ القدس کو یہودیانے کے ساتھ وہاں پر معابد کی تعمیر کے ذریعے صیہونی یلغار کی سازشیں سنہ 1967ء کے بعد شروع ہوئی ہیں۔
