• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home عالمی خبریں

ٹرمپ عنقریب القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کریں گے

بدھ 06-12-2017
in عالمی خبریں
0
0Pala8237
0
SHARES
2
VIEWS

واشنگٹن – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) امریکی انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج بدھ کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والے اہم اجلاس میں فلسطینی شہر مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے سے متعلق بات کریں گے تاہم وہ جلد ہی القدس کو اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کر لیں گے۔

 

واشنگٹن میں ‘العربیہ’ سمیت دیگر عالمی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے امریکی انتظامیہ کے عہدیداروں نے کہا کہ عنقریب صدر ٹرمپ القدس کو اسرائیل کا صدر مقام تسلیم کرنے کا اعلان کریں گے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا ٹرمپ مغربی یروشلم یا مشرقی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیں گے۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں توہ پہلے امریکی صدر ہوں گے جو القدس کے حوالے سے متنازع فیصلہ کریں گے۔ مبصرین ان کے ممکنہ فیصلے کو سابقہ قراردادوں اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے حوالے سے ہونے والی کوششوں کے لیے دھچکا قرار دے رہے ہیں۔

امریکی حکام نے بتایا کہ ٹرمپ کے بیت المقدس کے بارے میں ممکنہ فیصلے دو اہم پہلوؤں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ اول یہ کہ القدس تاریخی اعتبار سے یہودیوں کا مذہب مرکز ہے اور ہزاروں سال سے یہودی اسے اپنا مذہبی مقام قرار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیتے ہیں۔ دوم یہ کہ سنہ 1948ء سے اسرائیلی وزارتوں کے دفاتر اور دیگر محکمے یہاں قائم ہیں۔ اس لیے القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنائے جانے میں کوئی امر مانع نہیں ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ ایک یاداشت پر دستخط کریں گے تاہم سفارت خانے کی تل ابیب سے القدس منتقلی میں وقت لگے گا۔ اس سلسلے میں وزارت خارجہ کو پہلے ہی اقدامات کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تل ابیب سے سفارت خانے کی منتقلی میں تین سے چار سال لگ سکتے ہیں۔ یہ پوری دنیا میں سفارت خانوں کی منتقلی کا معمول ہے۔ سیکیورٹی انتظامات اور دیگر تیاریوں پر کئی سال لگ جاتے ہیں۔

امریکی حکام نے نہیں بتایا کہ آیا امریکی سفارت خانہ مشرقی بیت المقدس میں ہو گا یا مغربی بیت المقدس میں قائم کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عرب ممالک کے حکمرانوں کو بتا چکے ہیں کہ امریکا اپنا سفارت خانہ جلد القدس منتقل کرے گا۔ یہ فیصلہ امریکا کی کئی سال سے جاری پالیسی کو ختم کر دے گا مگر اس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں ایک نئی بے چینی کی لہر اٹھنے کے خدشات پائے جاتے ہیں۔

القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرائے جانے کے حوالے سے متضاد خبریں آ رہی ہیں۔ گذشتہ روز ایک امریکی ترجمان نے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ نے القدس کو صہیونی ریاست کا دارالحکومت قرار دینے کا فیصلہ کچھ دنوں کے لیے موخر کر دیا ہے۔

Tags: americafacebookgamesgazagoogleisraelisraelijerusalemkillerlondonMatrixnebluspalestineparisramallahThirdIntifadatrumpUnitedForPalestinewashingtonwestbankyoutubezionistzombieٹرمپ عنقریب القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کریں گے
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.