اس دوران صیہونی فوج نے مسجد اقصیٰ کے چار محافظوں کو حراست میں لے لیا۔ گذشتہ روز اسرائیلی فوج نے شمالی فلسطین کے شہر اللد میں تلاشی کی کارروائی کے دوران تین فلسطینی وکلاء کو حراست میں لے لیا۔ ادھر بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کے چارمحافظوں کو بھی حراست میں لے لیا۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق صیہونی فوج نے بیت المقدس میں ایک کارروائی کے دوران مسجد اقصیٰ کے چار محافظوں لوئی ابو السعد، احمد ابو علیا، فادی ابو میزر اور قاسم کمال کو کئی گھنٹے تک حبس بے جا میں رکھا۔ بعد ازاں ابو السعد کو ایک اور تفتیشی مرکز منتقل کردیا گیا جب کہ دیگر تین محافظوں کو رہا کردیا گیا ہے۔
فلسطینی محکمہ اوقاف کے حکام نے بتایا ہے کہ سوموار کو56 صیہونی آبادکاروں نے فول پروف سیکیورٹی میں نے قبلہ اوّل کی بے حرمتی کا ارتکاب کیا۔Â صیہونی آباد کار مسجد اقصیٰ میں مراکشی دروازے اور باب السلسلہ سے داخل ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق مسجد اقصیٰ کے دروازوں کے باہر تعینات کی گئی اسرائیلی فولیس نے فلسطینی نمازیوں کے ساتھ بدسلوکی کی اور ان کی شناخت پریڈ کے ساتھ انہیں قبلہ اوّل میں عبادت کے لیے داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کرتے رہے۔ صیہونی فوج کی جانب سے روکنے پر فلسطینی مشتعل ہوگئے اور انہوں نے صیہونی فوج اور پولیس کی غنڈہ گردی کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ صیہونی آباد کاروں کی بڑی تعداد مراکشی دروازے کے راستے مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئی۔ اس موقع پر اسرائیلی فوج اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔
