مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے عبرانی اخبارات نے انکشاف کیا ہے کہ خفیہ ادارے’شاباک‘ کے سینیر افسران بھی ماتحت خواتین کی آبر ریزی جیسے سنگین جرائم میں ملوث ہیں۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کثیرالاشاعت اخبار ’معاریو‘ کی رپورٹ میں بیت المقدس میں قائم ’مجسٹریٹ‘ عدالت کے جج ایٹان کوھین‘ نے خفیہ ادارے’شاباک‘ کے افسروں سے جنسی جرائم میں ملوث ہونے کے واقعات کی تفتیش کی خبر میڈیا کو جاری کرنے کی اجازت دی ہے جس کے بعد پتا چلا ہے کہ عدالت اس نوعیت کے کیسز کی چھان بین کر رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق عدالتی اجازت کے بعد پریس کو جاری خبر میں بتایا گیا ہے کہ ’شاباک‘ کے کئی سینیر افسران پر اسی ادارے میں کام کرنے والی خواتین پرجنسی تشدد کے الزامات ہیں۔ یہ الزامات خواتین کی جانب کی شکایات کے بعد کیے گئے ہیں۔
اسرائیلی مجسٹریٹ جج نے فی الحال شاباک کے انÂ افسران کی شناخت ظاہر کرنے کی اجازت نہیں دی جو مبینہ طور پر جنسی جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں۔ اس حوالے سے وزارت قانون کے تحت پولیس چھان بین کررہی ہے۔
دو ہفتے قبل اسرائیلی اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ پولیس خفیہ ادارے’شاباک‘ کے تین اہلکاروں پر اسی ادارے کی خواتین ورکروں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث پائے گئے اور ان سے تفتیش جاری ہے۔
یہ شکایت ایک خاتون اہلکار کی جانب سے کی گئی تھی جس نے بتایا تھا کہ ادارے کے تین اہلکاروں نے اس کے ساتھ غیراخلاقی رویہ اپنایا تھا۔
