فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ 30 اکتوبر 2017ء کو غزہ کی پٹی کے علاقے دیر البلح میں ایک سرنگ پر حماس اور اسلامی جہاد کے بارہ کارکنان کی شہادت دراصل غزہ پرحملے کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی اور نام نہاد صیہونی ریاست کےدرمیان قائم کردہ حفاظتی باڑ اور سرحد پر سیکیورٹی مزید سخت کردی ہے۔ اسرائیلی فوج اور سیاسی قیادت کو بارہ فلسطینیوں کی شہادت کے بعد مجاھدین کی طرف سے اس جرم کا انتقام لیے جانے کا ڈر ہے اور اس خوف نے صیہونیوں کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔
اسرائیلی فوج نے غزہ کی سرحد پر راکٹوں سے دفاع کے لیے تیار کردہ ’آئرن ڈوم‘ سسٹم بھی نصب کردیا ہے۔ اس کے علاوہ صیہونی آباد کاروں کی غزہ کے قریب سیاحتی سرگرمیاں بھی روک دی گئی ہیں۔
صیہونی ریاست کی طرف سے فلسطینی مزاحمت کاروں کو دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ اگر فلسطینی مزاحمت کاروں نے غزہ کی پٹی کے قریب اسرائیلی فوج کے ساتھ چھیڑچھاڑ کی تو فوج بھرپور جنگ پر مجبور ہو جائے گی۔
صیہونی ریاست کی طرف سے غزہ کی پٹی پر جنگ مسلط کرنے کی دھمکیاں، اسرائیل کے جنگی طیاروں کی نچلی پروازوں میں غیرمعمولی اضافہ، غزہ کے اطراف میں فوجی مشقیں، اقوام متحدہ کی طرف سے صیہونی ریاست کی ڈھٹائی کے ساتھ جانب داری، فلسطینی مجاھدین کی مخالفت اور تنقید یہ سب ایسے واقعات ہیں جو غزہ کیÂ پٹی پر صیہونی ریاست کی کسی نئی مہم جوئی کا عندیہ دے رہے ہیں۔
