نیویارک – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اقوام متحدہ نے لبنان کے سبکدوش وزیراعظم سعد حریری کی سعودی عرب میں پراسرار رپوشی اور قیام پر سعودی حکومت سے وضاحت طلب کی ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوگریک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ لبنان کے مستعفی وزیراعظم سعد حریری کئی روز سے سعودی عرب میں پراسر طور پرقیام پزیر ہیں۔ ان کے سعودی عرب میں قیام کے طول پکڑنے سے کئی طرح کے خدشات ظاہر ہو رہے ہیں۔ اسÂ لیے سعودی عرب ان کی موجودہ صورت حال کے بارے میں وضاحت کرے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم سعد حریری کے حوالے سے سخت تشویش میں اور آزاد ذرائع سے ان کے بارے میں کوئی قابل ذکر معلومات نہیں مل رہی ہیں۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے یہ بات ایک پریس کانفرنس کے دوران پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ سعد حریری کا سعودی عرب میں بیٹھ کر وزارت عظمیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینا اور اس کے بعد سعودی عرب سے واپس نہ آنا کئی طرح کے خدشات اور سوالات کو جنم دیتا ہے۔
گذشتہ اتوار کو سعد حریری نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ انہوں نے استعفیٰ اپنی مرضی سے دیا ہے اور وہ جلد لبنان واپس آجائیں گے۔ انہوں نے چار نومبر کو سعودی عرب میں قیام کے دوران ایک ٹی وی پر انٹرویو ہی کے دوران وزارت عظمیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ لبنانی صدر میشل عون نے تا حال ان کا استعفیٰ منظور نہیں کیا ہے۔
لبنانی شیعہ عسکری گروپ حزب اللہ نے سعودی عرب پر لبنان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا الزام عائد کیا ہے۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ سعد حریری کو دھوکے سے سعودی عرب بلا کر انہیں دباؤ کے تحت استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا۔
