فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق یہ نئی کمیٹی ’صہیونیت کیمپ‘ کے رکن ایلیٹ نخمیاس فاربین کی تجویز پرقائم کی گئی ہے۔ اس کمیٹی میں ’لیکوڈ‘ کے رکن امیر اوحانا، ’فیوچر پارٹی‘ کے حاییم یلین’کلنا‘ کے میراف بن اری، جیوش ہوم کے شمولی معلم، شایی کے یعقوب مرگی اور یسرائیل بیتنوکے عودید فورر شامل ہوں گے۔
صہیونی رکن کنیسٹ نحمیاس فاربین نے اخبار ’یسرائیل ھیوم‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ یورپی یونین کی طرف سے فلسطینی اتھارٹی کو دی جانے والی 4.5 ملین یورو کی ماہانہ رقوم کے فلسطینی مزاحمت کاروں کے اہل خانہ تک منتقلی سے متعلق جمع کردہ اعدادو شمار کی روشنی میں کارروائی کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے دائیں اور بائیں بازو کے آباد کاروں کو اس بات پر قائل کرنا مشکل ہے کہ فلسطینی اس وقت تک امن عمل کو آگے بڑھانا چاہیں گے جب تکÂ ڈونر ممالک بالخصوص یورپی ملکوں کی طرف سے یہودیوں کے ’قاتلوں‘ کو دی جانے والی رقوم پر روک نہ لگائے جائے اور وہ رقوم عام فلسطینیوں تک نہ پہنچائی جائیں۔
