فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق غزہ میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر احمد بحر نے کہا کہ قومی مصالحت اور مسلح مزاحمت دونوں فلسطینی قوم کی بنیادی ضروریات ہیں۔ حماس دونوں کو ایک ساتھ جاری رکھے گی۔
انہوں نے کہا کہ حالات نے ثابت کیا ہے کہ فلسطینیوں کے پاس صیہونی دشمن کے خلاف مسلح جدو جہد کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہا ہے۔ فلسطین کی آزادی اور صیہونی ریاست کے غاصبانہ قبضے کا خاتمہ صرف مسلح جدو جہد سے ممکن ہے۔ عالمی ادارے اور بین الاقوامی قوانین مظلوم اقوام کو اپنے حق خود ارادیت کے حصول کے لیے مسلح جدو جہد کی مکمل اجازت دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی مسلط کی گئی ناکہ بندی، بجلی اور دیگر سہولیات کی بندش نے فلسطینی قوم کو مسلح جدو جہد پر مجبور کیا۔
ڈاکٹر احمد بحر کا کہنا تھا کہ قوم کے دیرینہ اصولوں کی بنیاد قومی مصالحت کا عمل آگے بڑھائیں گے۔ قومی مصالحت فلسطینی قوم کے مفاد میں ہے۔
انہوں نے فلسطینی قوم کے ساتھ ساتھ عالم اسلام پر بھی اپنی صفوں میں اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔ ڈاکٹر بحر کا کہنا تھا کہ فلسطینی قوم کی عالمی اداروں میں مادی، معنوی، سیاسی،سفارتی، اخلاقی اور مالی مدد عالم اسلام کی ذمہ داری ہے۔
