مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل میں انسانی حقوق کے لیےکام کرنے والے دو گروپوں نے صیہونی فوج کے عقوبت خانوں میں فلسطینی قیدیوں کو بدترین اذیتیں دینے اور تشدد کے ذریعے انہیں اقبال جرم کرنے پر مجبور کرنے کا انکشاف کیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق انسانی حقوق کے گروپوں ’بتسلیم‘ اور ’ہموکیڈ‘ برائے شہری دفاع‘ نے اپنی ایک مشترکہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج، پولیس، جیلوں میں تعینات سیکیورٹی فورسز اور عدالتی باڈیز سب فلسطینی قیدیوں کے معاملے میں بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صیہونی تفتیشی ادارے، پولیس اور تفتیش کار مشرقی بیت المقدس سے گرفتار کیے گئے فلسطینی نوجوانوں کر بدترین تشدد کرتے ہیں اور تشدد کرکے انہیں اقبال جرم کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
رپورٹ میں صیہونی فوج کے ٹارچر کا نشانہ بننے والے 60 فلسطینی نوجوانوں کے زبانی بیانات قلم بند کیے گئے ہیں۔ انہیں 2015ء اور2016ء کے دوران مشرقی بیت المقدس سے گرفتار کیا گیا۔ ان میں سے 91 فی صد نوجوانوں اور کم عمر بچوں کو رات کی تاریکی میں ان کے گھروں سے اٹھایا گیا اور رات کی تاریکی میں ان میں سے 25 فی صد پر تشدد کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق 29 فی صد نوجوانوں نے بتایا کہ انہیں خاموش نہیں رہنے دیا گیا جب کہ 70 فی صد نے بتایا کہ ان سے ایسی زبان میں بات کی گئی جسے وہ نہیں سمجتھے جبکہ 30 فی صد کا کہنا ہے کہ انہیں تفتیش مکمل ہونے تک اپنے وکلاء سے بات کرنے سے منع کیا گیا۔
پچیس فی صد نے بتایا کہ انہیں حراستی مراکز میں ہولناک تشدد کا نشانہ بنایا گیا جب کہ 55 فی صد کا کہنا ہے کہ صیہونی فوج نے انہیں تشدد کے ساتھ گالم گلوچ اور سنگین دھمکیاں بھی دیں۔
بیت المقدس سے گرفتار کیے گئے بیشتر فلسطینی نوجوانوں کو المسکوبیہ حراستی مرکز میں ڈالا گیا جہاں انہیں دوران تفتیش بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
اسرائیلی انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ صیہونی فوج اور پولیس گرفتار فلسطینی نوجوانوں پر عائد الزامات تسلیم کرانے کے لیے ان پر تشدد کرتی ہے اور یہ غیرانسانی طرز عمل کھلے عام تمام حراستی مراکز میں کیا جاتا ہے۔
