مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی ریاست کے پراسیکیوٹر جنرل نے بھیÂ کرپشن میں ملوث بنجمن نیتن یاھو کے وزارت اعظمیٰ کے عہدے سے چمٹنے رہنے کی پالیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق صیہونی ریاست کے پراسیکیوٹر جنرل کا کہنا ہے کہ کرپشن میں ملوث وزیراعظم کا الزامات کو مسلسل نظرانداز کرنا حقائق سے چشم پوشی کرنے کے مترادف ہے۔ نیتن یاھو کی یہ پالیسی ملک کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔اسرائیلی اخبارات میں شائع ایک بیان میں اسرائیلی پراسیکیوٹر جنرل کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے خلاف بدعنوانی کے کئی کیسز چل رہے ہیں۔ مگر وہ ان تمام کیسز میں لاپرواہی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ اس سے نہ صرف ملک کو نقصان ہوگا بلکہ ان کی اپنی ساکھ بھی بری طرح مجروح ہوگی۔
پراسیکیوٹر جنرل شائی نیتزن کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عہدوں پر فائز کوئی بھی شخصیت اگر اپنے اوپر عائد الزامات کو اہمیت نہ دے تو وہ سب کے لیے نقصان دہ ہوتی ہےْ اگر کوئی وزیر، کوئی وزیراعظم، مذہبی پیشوا اور رکن کنیسٹ بھی ایسا کرے تو اس سے ملک کو نقصان پہنچے گا۔
شائی نیتزن کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کرپشن کے الزامات کو سنجیدہ نہ لے کر ایک غلط مثال قائم کررہے ہیں۔ جب تک ان کے خلاف کرپشن کے الزامات چل رہے ہیں انہیں اخلاقی طور پر وزارت اعظمیٰ کا عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔
