غزہ – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی دشمن کے عقوبت خانوں میں پابند سلاسل فلسطینیوں میں ایک بڑی تعداد اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے کارکنان اور رہ نماؤں پر مشتمل ہے۔ مگر حماس کے یہ اسیر کارکن بالخصوص غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے حماس کارکنان اپنے پیاروں سے ملاقات سے مسلسل کئی ماہ سےمحروم ہیں۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسیران کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ صیہونی جیلر اور فوج ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت غزہ کی پٹی میں حماس کے کارکنان کو ان کے عزیزو اقارب سے محروم رکھے ہوئے ہیں۔ صیہونی فوج کی یہ انتقامی پالیسی حماس کے اسیر کارکنوں اور ان کے اہل خانہ کے خلاف اعصابی جنگ کا حصہ ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ دراصل اسرائیل حماس کے اسیر ارکان پر دباؤ ڈال کراپنے اہل خانہ کے ذریعے حماس کو دباؤ میں لانے کی کوشش کررہا ہے تاکہ حماس غزہ کی پٹی میں جنگی قیدی بنائے گئے اسرائیلی فوجیوں کو چھوڑ دے یا ان کی رہائی میں نرمی اختیار کرے۔
موصولہ بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ چار ماہ سے غزہ کے شہریوں کو اپنے اسیر اقارب سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ اسرائیلی داخلی سلامتی کے وزیر گیلاد اردان یہ چاہتے ہیں کہ وہ حماس کے اسیران پر دباؤ ڈال کر حماس کو قیدیوں کی رہائی پر مجبور کردیں۔ گذشتہ جولائی میں حماس کے اسیران کے وکلاء نے اسرائیلی سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی جس میں مطالبہ کیاگیا تھا کہ عدالت اسیران کے ساتھ ان کے اقارب کی ملاقات پرعائد پابندی ختم کرنے کے احکامات صادر کرے۔
خیال رہے کہ اسرائیل کی ’بئر سبع‘ نامی ایک جییل میں غزہ کی پٹی سے گرفتار کیے گئے حماس کے 100 ارکان پابند سلاسل ہیں۔
