مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی جیلوں میں قید طویل المدت قید کاٹنے والوں میں 57 سالہ سمیر ابراہیم محمود ابو نعمہ اپنی مسلسل اسیری کے 31 سال مکمل کرنے کے بعد اسیری کے 32 ویں برس میں داخل ہوگئے ہیں۔ کل ہفتے کے روز ابو نعمہ کی اسیری کے 31 سال مکمل ہوگئے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ابو نعمہ کا شمار اسرائیلی جیلوں میں قید پرانے اسیران میں ہوتا ہے۔ وہ 20 اکتوبر 1986ء سے صیہونی جیل میں پابند سلاسل ہیں اور انہیں تا حیات عمر قید کی سزا کا سامنا ہے۔ابو نعمہ پر اسرائیلی فوجی عدالت میںÂ سنہ 1983ء میں ایک صیہونی بس پر بم حملے اور اسرائیلی تنصیبات پر مسلح حملوں کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ بس پر بم حملے میں چھ اسرائیلی ہلاک ہوگئے تھے۔
طویل اسیری کے دوران فلسطینی شہری کئی خطرناک امراض کا بھی شکار ہے۔ اس کی کمر میں شدید تکلیف کے ساتھ کئی دوسری بیماریاں بھی لاحق ہیں۔
کمر میں تکلیف کی وجہ سے اس کی چھ بار جیل کی اسپتال میں سجری کی گئی تاہم تکلیف میں کوئی کمی نہیں آئی۔ اب اسے اسرائیلی جیل انتظامیہ کی طرف سے صرف درد کش گولیاں کھانے کو دی جاتیÂ ہیں۔
سنہ 2011ء میں فلسطینی اسیران کی رہائی کے لیے ہونے والے ایک معاہدے کے دوران ابو نعمہ کے ساتھ قید کاٹنے والے تمام اسیران رہا کردیے گئے تھے تاہم اسرائیل نے بو نعمہ کو رہا کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اس کے ساتھ طویل قید کاٹنے والوں میں طارق، عبدالناصر حلیسی، ابراہیم علیان اور حازم عسیلہ شمال تھے۔ ان سب کو کئی کئی بار تاحیات عمر قید کی سزا کا سامنا تھا۔
اسرائیلی جیلوں میں بیت المقدس کے 100 شہری پابند سلاسل ہیں۔ صیہونی فوج روز مرہ کی بنیاد پر کم عمر بچوں سمیت القدس کے شہریوں کی پکڑ دھکڑ کرکے انہیں زدو کوب کرتی ہے۔
