مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) گذشتہ اتوار کو مصر کے جزیرہ نما سیناء کے علاقے کرم القوادیس میں دہشت گردوں کے حملے اور متعدد مصری سیکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کی ہلاکتوں نے کئی سوالات جنم دیے ہیں۔
یہ ہلاکت خیز حملے، جن میں چھ مصری فوجی اور تین پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ایک ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب فلسطینی دھڑوں تحریک حماس اور فتح کے درمیان مصر کی زیر نگرانی طے پائے مصالحتی معاہدے کو چند ہی روز ہوئے ہیں۔مبصرین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آیا ان حملوں کا فلسطینیوں کے درمیان مصالحت سے کوئی تعلق ہے یا نہیں؟۔ کیا داعش کی جانب سے یہ کارروائی فلسطینی دھڑوں میں صلح کا رد عمل ہے؟
اسی سوال کا جواب ماہرین کی آراء کی روشنی میں دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ جزیرہ نما سیناء میں تازہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند ہی روز قبل حماس اور فتح نے ایک معاہدے کے تحت رفح گذرگاہ کا سیکیورٹی انتظام فلسطینی اتھارٹی اور غزہ کے انتظامی معاملات فلسطینی قومی حکومت کو سپرد کرنے کا معاہدہ کیا۔
مصری دفاعی تجزیہ نگار میجر جنرل نصر سالم نے کہا کہ حماس اور فتح کے درمیان مصالحتی معاہدہ داعش جیسے دہشت گرد گروپوں کے مفاد میں نہیں۔ فلسطین کی ان دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے نے داعش کے گرد گھیرا تنگ کردیا ہے۔
اس معاہدے سے نہ صرف غزہ اور مصر کے درمیان جنگجوؤں کی آمد ورفت بند ہوگی بلکہ غزہ کی پٹی میں موجود ان کے مراکز کو بھی ختم کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔ یوں داعشی دہشت گردوں نے اس معاہدے کو ناکام بنانے کے لیے جزیرہ سیناء میں دہشت گردی کے نئے حملے شروع کیے ہیں۔
سیناء میں تازہ حملوں سے ایک تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس علاقے میں غزہ مضبوط اورفعال ہے۔ اس میں مصری فوج پر خونی حملوں کی صلاحیت موجود ہے، حالانکہ مصری فوج کے آپریشن میں بڑی تعداد میں داعشی جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں۔ دوسرا یہ کہ غزہ میں حماس داعش کو جڑیں پکڑنے سے روکنے میں ناکام رہی ہے، جس کے نتیجے میں داعش مضبوط ہوئی۔ حماس نے داعشی گروپوں کے لیے غزہ میں کھلی چھوٹ دے دی جنہوں نے مصر میں آمد ورفت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ یہ ایک خطرناک پیغام ہے اس کی ذمہ داری مصر پرعاید نہیں کی جاسکتی۔
داعش کی شکست
مصری تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ حالیہ دہشت گردی کی کارروائی داعش کی شکست خوردگی کی کا ثبوت ہے۔ داعش مصری فوج اور مصری قوم پر خوف مسلط کرنے کے سوا کچھ نہیں کرسکی جب کہ مصری فوج نے داعش کے خلاف حقیقی اور معنوی فتوحات حاصل کی ہیں۔
داعش فلسطینی جماعتوں کے درمیان اتحاد اور غزہ کے انتظامی امور فلسطینی اتھارٹی کو سپرد کیے جو اپنی حتمی شکست سے تعبیر کررہی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ غزہ کے انتظامی فلسطینی اتھارٹی کو منتقل ہونے سے داعش کو علاقے میں حاصل مادی اور معنوی سپورٹ فنڈنگ بند ہوجائے گی جو داعش کی حقیقی شکست پر منتج ہوگی۔
حماس سے انتقام
غزہ اور مصر میں اس وقت داعش کے لیے حالات بہت مشکل ہوچکے ہیں۔ اب یہ شدت پسند گروپ کسی کاری ضرب کی متحمل نہیں رہی۔ اس نے تازہ کارروائی کے ذریعے اپنے گرد تنگ ہوتے گھیرے کو کم کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ دوسری طرف داعش نے فتح کے ساتھ مصالحتی معاہدے پر جماعت سے انتقام لینے کے لیے خونی کارروائیاں شروع کی ہیں۔
جنرل نصر سالم کا کہنا ہے کہ حالیہ ایام میں حماس نے غزہ میں داعش کے مراکز پر حملے کیے ہیں۔ داعش ان حملوں کو مصر اور حماس کے درمیان بڑھتے تعلقات کا نتیجہ قرار دیتی ہے۔ یہی وجہ ہےکہ اس نے حماس سے انتقام کے لیے کرم القوادیس کے مقام پر حملے کیے ہیں۔
قصہ مختصر یہ کہ داعش اپنی بقاء کی آخری جنگ لڑ رہی ہے۔ اس جنگ میں اسے مصری فوج کے ہاتھوں غیرمعمولی جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ جزیرہ سیناء میں داعش کے زیادہ تر اڈے تباہ کردیئے گئے ہیں اور غزہ کی پٹی میں بھی اس کا انجام قریب تر ہے۔
