قاہرہ – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین کی متحارب جماعتوں حماس اور فتح نے اپنے باہمی اختلافات کے خاتمے کے لیے منگل کے روز مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں مصالحتی بات چیت شروع کردی ہے۔ دونوں جماعتوں کے مندوبین کے درمیان بند کمرے میں یہ مذاکرات ہورہے ہیں۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حماس اور فتح کے درمیان گذشتہ ایک عشرے سے جاری شدید اختلافات کے خاتمے کے لیے گذشتہ ہفتے کے دوران میں اہم پیش رفت ہوئی ہے ۔ فلسطین کی قومی حکومت کے وزیر اعظم رامی حمداللہ اور ان کے وزراء نے غزہ کی پٹی کا دورہ کیا تھا اور انھوں نے وہاں باضابطہ طور پر سرکاری محکموں کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔فلسطینی وزیراعظم کا 2015ء کے بعد غزہ کا یہ پہلا دورہ تھا۔ اس سے چند روز پہلے ہی حماس نے غزہ کی پٹی میں اپنی حکومت سے دستبردار ہونے اور علاقے کا انتظامی کنٹرول قومی اتحاد کی حکومت کے حوالے کرنے کا اعلان کردیا تھا۔
حماس کے ایک مندوب نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ’’ فتح اور حماس کے درمیان مصالحت کے لیے مذاکراتی کمیٹی نے مصر کی نگرانی میں کام شروع کردیا ہے‘‘۔ انھوں نے بتایا ہے کہ مصری انٹیلی جنس کے صدر دفاتر میں یہ مذاکرات ہورہے ہیں اور ان میں قومی اتحاد کی حکومت کے غزہ کی پٹی میں نظم ونسق سنبھالنے سے متعلق امور کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت فتح کے وفد کے سربراہ عزام الاحمد نے قبل ازیں بتایا کہ’’ مذاکرات کا بنیادی نکتہ غزہ میں حکومت کو بااختیار بنانا ہی ہے‘‘۔
واضح رہے کہ حماس اور مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والی فتح کے درمیان 2007ء سے اختلافات چلے آرہے تھے اور دونوں نے غزہ کی پٹی اور غرب اردن میں اپنی الگ الگ حکومت بنا رکھی تھی۔ ان کے درمیان اختلافات کی وجہ سے اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کا عمل بھی تعطل کا شکار ہوچکا ہے ۔
ماضی میں ان دونوں جماعتوں کے درمیان متعدد مرتبہ مصالحت کے لیے کوششیں کی گئی تھیں لیکن یہ ناکامی سے دوچار ہوگئی تھیں۔ اب کے مصر کی مصالحتی کوششوں کے نتیجے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور حماس نے گذشتہ ماہ غزہ کی پٹی میں اپنی انتظامیہ سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا۔ تاہم ابھی دونوں جماعتوں کے درمیان حماس کے تحت سکیورٹی فورسز (یا عسکری ونگ ) کے پچیس ہزار اہلکاروں کے مستقبل کے حوالے سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ حماس انھیں فلسطینی سکیورٹی فورسز میں ضم کرنے پر اصرار کررہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ان کے مسئلے پر کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔
