مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی حکومت کے ایک سینیر عہدیدار نے حال ہی میں حکومت کے سامنے فلسطینیوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنے کے ایک خطرناک منصوبے کی تفصیلات پیش کی ہیں۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق عبرانی اخبار ’ہارٹز‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ حکومتی عہدیدار نے مقبوضہ مغربی کنارے میں بسنے میں والے فلسطینیوں کو نکال کر عرب ممالک میں منتقل کرنے، ان علاقوں میں یہودیوں کی تعداد میں دوگنا اضافہ کرنے اور مستقبل میں فلسطینی ریاست کےقیام کو ناکام بنانے کا فارمولہ پیش کیا ہے۔اتوار کے روز اسرائیلی کابینہ میں شامل شدت پسند مذہبی جماعت کے رکن بیتزلئیل سوموٹرچ نے اپنا یہ پلان پیش کیا جو اس کے خیال میں حتمی اور تفصیلی فارمولہ ہونا چاہیے۔ اس فارمولے میں فلسطینی اتھارٹی کو ختم کرکے غرب اردن کے تمام علاقوں پر اسرائیلی ریاست کی عمل داری قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
سموٹرچ کی پیش کردہ تجاویز کے مطابق اسرائیلی حکومت ہرسال غرب اردن سے 20 ہزار فلسطینیوں کو سنہ 2035ء تک دوسرے عرب ممالک میں منتقل کرے۔ اس دوران فلسطینی اتھارٹی کو ختم کردیا جائے۔ غرب اردن کے تمام علاقوں میں اسرائیل کا سرکاری قانون نافذ کیا جائے۔ یہودی آباد کاروں کی تعداد میں تین گنا تک اضافہ کیا جائے اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ہونے والی کوششوں کو ہر فورم پر ناکام کیا جائے تاکہ گراؤنڈ پر فلسطینی ریاست کے مطالبے کا کوئی وجود باقی نہ رہے۔
اسرائیل الیوم کے مطابق فلسطینیوں کی ھجرت کے نئے فارمولے میں کہا گیا ہے کہ ایسے فلسطینی عرب جو غرب اردن میں رہتے ہوئے الگ ریاست کے مطالبے سے دست بردار ہونے کو تیار ہوں اور وہ اسرائیل کو قبول کریں تو انہیں اسرائیلی کنیسٹ میں رکنیت کے سوا دیگر شہری حقوق دیے جائیں تاہم وہ فوج میں دروز قبیلے کی طرح خدمات انجام دے سکیں گے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی دائیں بازو کی قومی اتحاد پارٹی نے اپنے منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ پارلیمنٹ اس طرح کے کسی بھی فارمولےکی حمایت میں لابنگ کے لیے ایک لاکھ شیکل کی رقم کا بجٹ منظور کرچکی ہے۔ اس رقم سے ایک ویب سائیٹ قائم کی جائے گی۔ نیز اس مہم کو چلانے کے لیے امریکا، برطانیہ، جرمنی ، روس اور آسٹریا میں فنڈ ریزنگ مہمات چلائی جائیں گی۔
اسرائیلی کنیسٹ میں شامل قومی اتحاد پارٹی کو عبرانی میں ’تکوماہ‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ اس میں متعدد یہودی گروپ شامل ہیں جن میں لیدت، ھتکفا، تکوما، آرٹس اور اسرائیل شیلانو نامی گروپ شامل ہیں۔
