مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر نظر رکھنے والے انسانی حقوق کے گروپوں نے انکشاف کیا ہے کہ صہیونی ریاست عدلیہ کی آڑ میں جیلوں میں ڈالے گئے فلسطینیوں کے بنیادی انسانی حقوق کو پامال کررہی ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فلسطین میں اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے‘کلب برائے اسیران‘ کے چیئرمین قدورہ فارس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صہیونی ریاست فوجی، سیاسی اور سیکیورٹی اداروں کو عدلیہ کی آڑ میں فلسطینی اسیران کے بنیادی حقوق، عالمی قوانین، بین الاقوامی قراردادوں اور عالمی معاہدوں کی خلاف ورزویوں کے لیے استعمال کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قدورہ فارس نے کہا کہ اسرائیلی زندانوں میں پابند سلاسل فلسطینی شہریوں کے بنیادی حقوق منظم اور منصوبہ بندی کے تحت پامال کیے جاتے ہیں۔ قیدیوں سے غیرانسانی سلوک روا رکھنے کے لیے عدلیہ کے فیصلوں کا سہارا لیا جات ہے۔
قدورہ فارس نے بتایا کہ حراست میں لیے گئے 95 فی صد فلسطینیوں کو بدترین اذیتوں کے طویل عمل سے گذارا جاتا ہے۔ ان کے خلاف سفاکانہ اور ظالمانہ فیصلے حاصل کیے جاتے ہیں۔ اسرائیلی عدالتیں فوج، دیگر سیکیورٹی اداروں اور انٹیلی جنس اداروں کے احکامات اور سفارشات پرعمل درآمد کرتے ہوئے فلسطینیوں سے غیر انسانی سلوک کرنے کی اجازت فراہم کرتی ہیں۔
اسرائیلی عقوبت خانوں میں نہ صرف بڑی عمر کے افراد کو غیرانسانی رویے کا سامنا ہوتا ہے بلکہ کم عمر بچے اور بچیاں بھی صہیونی ریاست کی درندگی کا سامنا کرتے ہیں۔ بچوں کو وحشیانہ جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی سزائیں دی جاتی ہیں۔
