رام اللہ – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطینی اتھارٹی کے ایک سینیر عہدیداربتایا گیا ہے کہ رواں سال میں اب تک اسرائیل نے فلسطینی علاقوں میں صہیونی آباد کاروں کو بسانے کے لیے گیارہ ہزار سات سو مکانات کی تعمیر کی منظوری دی ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مزاحمت صہیونی آباد کاری و نسلی دیوار کے چیئرمین ولید العساف کا کہنا ہے کہ سال دو ہزار سترہ کے دوران اب تک اسرائیل نے 11 ہزار 700 نئے مکانات کی تعمیرکی منظوری دی ہے۔فلسطینی عہدیدار نے سرکاری ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مزید صہیونی آباد کاروں کو بسانے کے لیے بڑی تعداد میں نئی کالونیوں کے قیام اور مکانات کی تعمیر کی تیاری کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے پچھلے چھ ماہ کے دوران 122 نئی کالونیوں کے نقشے تیار کیے ہیں۔ اس کے علاوہ پہلے سے قائم کی گئی کالونیوں میں بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور ہزاروں ایکڑ فلسطینی اراضی ان کالونیوں میں ضم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی۔
ولید العساف کا کہنا ہے کہ صہیونی ریاست نے مقبوضہ مغربی کنارے کے وسطی شہر الخلیل اور بیت المقدس میں بڑی تعداد میں مزید کالونیوں کی تعمیر کی تیاریاں شروع کی ہیں۔ ایک سازش کے تحت فلسطین کے ان دونوں تاریخی شہروں کو صہیونی آباد کاری کے مرکز بنانے کی مہم جاری ہے۔
خیال رہے کہ عالمی برادری فلسطینی علاقوں میں صہیونی آباد کاری کی سرگرمیوں کو غیرقانونی قرار دیتی ہے تاہم صہیونی ریاست نے بین الاقوامی برادری کے موقف کے خلاف ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطینی شہروں میں صہیونیوں کو بسانے کا ظالمانہ سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
