فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فلسطینی محکمہ امور اسیران کےوکیل معتز شقیرات نے اسیران کی طرف سے بھیجے گئے ایک مکتوب کا حوالہ دیا ہے۔ اس مکتوب میں کہا گیا ہے کہ صہیونی زندانوں میں پابند سلاسل مریض اسیران صہیونی جیلروں کے رحم وکرم پر ہیں۔ کئی فلسطینی مریض نام نہاد جیل اسپتال الرملہ میں بدترین غفلت کا سامنا کر رہے ہیں۔
مکتوب میں کہا گیاہے کہ اسرائیلی انتظامیہ اور جیلر دانستہ طور پر فلسطینی اسیران بالخصوص مریض قیدیوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں۔ جیلوں میں بیمار پڑے فلسطینی سسک سسک کر جی رہے ہیں۔ انہیں جیل کے اندر اور باہر کسی قسم کی طبی سہولت مہیا نہیں کی گئی ہے۔
اسیران کا کہنا ہے کہ جیل انتظامیہ قیدیوں کی بیماریوں کی تشخیص نہیں کراتی اور نہ ہی انہیں پرائیویٹ اسپتالوں میں علاج کی اجازت دی جاتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ انہیں عارضی آرام دینے والی گولیاں’پین کلر‘ دیے جاتے ہیں اور نیند اور بے ہوشی کی دوائیوں کے ذریعے انہیں مسلسل تکلیف میں رکھا جاتا ہے۔
فلسطینی مندوب برائے اسیران کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں مریض قیدیوں کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے زاید ہے مگران میں سے 14 مریضوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔
