مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) صہیونی ریاست نے بیت المقدس کی ایک سرکردہ مذہبی شخصیت اور الاقصیٰ اکیڈمی برائے اوقاف وثقافتی ورثہ کے چیئرمین الشیخ ناجح بکیرات کو تین ماہ کے لیے مسجد اقصیٰ سے بے دخل کردیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق الشیخ ناجح بکیرات کو گذشتہ روز اسرائیلی پولیس نے بیت المقدس کے القشلہ سینٹر میں طلب کیا جہاں انہیں تین ماہ تک مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے روکنے کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔قدس پریس کے مطابق صہیونی پولیس نے الشیخ ناجح بکیرات کو کئی گھنٹے تک حبس بے جا میں رکھا۔
صہیونی پولیس کی جانب سے عاید کردہ ناروا پابندی پر اپنے رد عمل میں سرکردہ فلسطینی مذہبی رہنما الشیخ ناجح بکیرات نے کہا کہ صہیونی ریاست کے اس طرح کے انتقامی اور جابرانہ اقدامات کا مقصد فلسطینی قوم کو قبلہ اوّل سے دور کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں جب صہیونی پولیس نے مجھے مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے روکنے کا حکم دیا ہے۔ قابض صہیونی حکام اس سے قبل 16 بار مجھے مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے روک چکے ہیں۔
اس سوال پر کہ آیا صہیونی پولیس ایسا کیوں کرتی ہے تو الشیخ بکیرات کا کہنا تھا کہ صہیونی حکام انہیں ریاستی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میری مسجد اقصیٰ سے بے دخلی کے حکم نامے پر بیت المقدس کے اسرائیلی پولیس چیف کے دستخط ثبت ہیں۔
خیال رہے کہ پچھلے ماہ اگست کے بعد اب تک اسرائیلی پولیس 12 فلسطینیوں پر مسجد اقصیٰ میں داخلے پر پابندیاں عائد کرچکی ہے۔
