فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیل کی مرکزی عدالت نے زیرحراست فلسطینی معلمہ اور مسجد اقصیٰ کی مرابطہ خدیجہ خویص کو کل منگل کو پانچ ہزار شیکل جرمانہ کی وصولی کے بعد رہا کرنے کا حکم دیا تھا مگر عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل کی درخواست کے بعد ان کی رہائی کا فیصلہ معطل کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق خدیجہ کی رہائی اسی صورت میں ممکن ہوگی بہ شرطیکہ کہ Â عدالت اسرائیلی پراسیکیوٹر طرف سے دی گئی حراست میں آٹھ روز کی توسیع کی درخواست مسترد کردے گی۔ عدالت نے پراسیکیوٹر کی درخواست تا حال مسترد نہیں کی ہے۔
خیال رہے کہ خدیجہ خویص بیت المقدس کی رہائشی اور مسجد اقصیٰ کی خاتون مرابط ہیں۔ ان کی سماجی ، تعلیمی اور دینی سرگرمیوں کی بناء پر صہیونی انتظامیہ انہیں بار بار حراست میں لیتی رہتی ہے۔ خدیجہ خویص کو چند ہفتے قبل حراست میں لیا گیا تھا۔ عدالت نے خدیجہ کو پانچ ہزار شیکل جرمانہ کی سزا سناتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق خدیجہ خویص کوکل منگل کو رہا کیا جائے گا۔
