فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق گذشتہ ہفتے اسرائیلی فوج نے مقبوضہ بیت المقدس میں ایوب شمسانہ نامی فلسطینی شہری اور اس کے بیٹوں کے ملکیتی مکان کو اہل خانہ سے خالی کرانے کے بعد اسے یہودیوں کے حوالے کردیا تھا۔ ایوب شمسانہ اور ان کا خاندان اس مکان میں 52 سال سے رہ رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شمسانہ خاندان سے اس کا مکان چھیننا صہیونی قبضہ مافیا اور نسل پرست مجرم کے جرائم کا ایک نیا جرم ہے جس کی شدید مذمت کی جانی چاہیے۔ ترجمان نے شمسانہ خاندان سے مکان چھیننے کو صہیونی ریاست کی بدمعاشی، غنڈہ گردی اور نسل پرستی قرار دیا۔
ترجمان نے کہا کہ بیت المقدس میں ایک نہتے فلسطینی خاندان کو اس کے مکان سے محروم کرنا عالمی برادری کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے۔ عالمی برادری کی طرف سے بیت المقدس میں فلسطینی آبادی کو تحفظ فراہم نہیں کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں صہیونی ریاست کو فلسطینیوں کے خلاف نسل پرستانہ اقدامات کی کھلی چھوٹ مل چکی ہے۔
حماس کے ترجمان Â نے کہا کہ ایوب شمسانہ کے مکان کو اس کے چھین کر یہودیوں کو دینے کا صہیونی ریاست کے پاس کوئی آئینی اور اخلاقی جواز نہیں۔ شمسانہ خاندان سے اس کا گھر چھیننے کے لیے جو بہانے تراشے گئے وہ سب جعلی اور من گھڑت ہیں۔ باون سال سے اپنے گھر میں رہنے والے فلسطینی کو دانستہ طور پر اس کے گھر سے محروم کرکے بیت المقدس سے نکل جانے پر مجبور کرنے سازش کی گئی ہے۔
