فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مسجد اقصیٰ کےامام وخطیب الشیخ اسماعیل نواھضہ نے کہا کہ برما کے مسلمانوں کی منظم انداز میں نسل کشی کی جا رہی ہے۔
مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ اسرائیل القدس اور الخلیل شہروں کے باشندوں پر اجتماعی سزائیں مسلط کررہا ہے۔ بیت المقدس اور مقبوضہ الخلیل میں مذہبی، تاریخی اور جغرافیائی علامات تبدیل کی جا رہی ہیں۔ بیت المقدس اور الخلیل کو صہیونی ریاست کی جانب سے منظم انداز میں یہودیانے کی سازشوں کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے مسجد اقصیٰ کے باب الرحمہ کو سنہ 2004ء میں بند کیا اور یہ بندش آج تک جاری و ساری ہے۔ صہیونی ریاست ایک طے شدہ منصوبے کے تحت فلسطینی محکمہ اوقاف کو قبلہ اوّل سے بے دخل کرکے اس پرقبضہ کرنا چاہتی ہے۔
برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ روہنگیا مسلمانوں کو وہاں کی ریاست کی طرف سے منظم انداز میں نسل کشی کا سامنا ہے۔ الشیخ نواھضہ نے روہنگیا مسلمانوں پر Â مظالم پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، بین الاقوامی برادری اور مسلم دنیا کی خاموشی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے استفسار کیا کہ دنیا کی بڑی طاقتیں، انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے علم بردار، امریکا، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کہاں ہیں۔ کیا انہیں روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم دکھائی نہیں دیتے ہیں۔
