فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں میں طلباء کے پسندیدہ پروفیسر اور نابلس کی جامعہ النجاح میں فزکس کے پروفیسر عصام راشد الاشقر بھی Â کئی ماہ Â سے اسرائیلی جیل میں پابند سلاسل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 57 سالہ پروفیسر اور فلسطینی طلباء کے پسندیدہ استاد کے وکلاء کا کہنا ہے کہ ان کے موکل پر کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا۔ بغیر کسی الزام کے انہیں بار بار انتظامی حراست میں رکھا جا رہا ہے۔ حال ہی میں پروفیسر عصام الاشقر کی مدت حراست میں چوتھی بار مزید 2 ماہ کی توسیع کی گئی ہے۔
ادھر اسیران میڈیا سینٹر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ پروفیسر عصام الاشقر کی صحت خراب ہےاور وہ ایک سے زائد امراض کا شکار ہونے کے باوجود صہیونی جیل میں قید وبند کی صعوبتیں اٹھا رہے ہیں۔
خیال رہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر طولکرم سے تعلق رکھنے والے پروفیسر عصام الاشقر چھ بچوں کے باپ ہیں۔ وہ اردن کی یرموک یونیورسٹی سے فزکس کے مضمون میں فارغ التحصیل ہیں۔ وہ سنہ 1982ء سے 1994ء تک نابلس کی النجاح یونیورسٹی میں لیکچرار کے عہدے پر تعینات ہوئے۔ اس کے بعد وہ امریکا چلے گئے جہاں انہوں نے Â فزکس کے مضمون میں پی ایچ ڈی کیا۔ سنہ 1990ء میں دوبارہ واپس آئے اور جامعہ النجاح میں تدریسی خدمات انجام دینا شروع کیں۔ پروفیسر الاشقر کا شمار فلسطین کے باصلاحیت اور طلباء کے انتہائی پسندیدہ اور شفیق اساتذہ میں ہوتا ہے۔
ان کی گرفتاری اور اسرائیلی جیل میں قید فلسطینی طلباء کو زیورعلم سے محروم رکھنے کی گھناؤنی صہیونی سازش ہے۔
