فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق یورپی ملکوں میں فلسطینی تارکین وطن کی نمائندہ (فلسطین یورپی کانفرنس) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ افریقی ملک توگو کی میزبانی میں اکتوبر کے آخری عشرے میں میں ہونے والی کانفرنس قرن افریقا کو اپنے چنگل میں پھنسانے کی صہیونی سازش ہے۔ اس سازش کے نتیجے میں مسئلہ فلسطین پر عالمی سطح پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپ ۔ فلسطینی کانفرنس چودہ افریقی ملکوں پر مشتمل Â سربراہ کانفرنس کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
اس کانفرنس کے فلسطینیوں کی تحریک آزادی پر منفی اثرات مرتب ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے کئی خطرناک سیاسی، سیکیورٹی اور اور ثقافتی اثرات بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔ بالخصوص اپنی آزادی کے لیے لڑنے والی فلسطینی قوم کے لیے اسرائیل کی افریقی قربت کے منفی نتائج سامنے آئیں گے۔
کانفرنس کی طرف سے کہا گیا ہے کہ وہ اسرائیل۔ افریقا سربراہ کانفرنس کا انعقاد روکنے کے لیے یورپ اور دوسرے ملکوں میں آگہی مہم شروع کرے گی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل جو کئی سال تک افریقی ملکوں میں خانہ جنگی میں مدد کرتا اور افریقا کے نسل پرستانہ نظام کی حمایت کرتا رہا ہے آج ایک نئے انداز میں ان ملکوں پر حاوی ہونا چاہتا ہے۔ دوسری جانب صہیونی ریاست کی فلسطینیوں کے خلاف نسل پرستانہ پالیسیاں بھی برقرار ہیں۔
فلسطینی کانفرنس کی طرف سے افریقی ملکوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ٹوگو کی میزبانی میں اسرئیل۔ افریقا سربراہ کانفرنس میں شرکت کا بائیکاٹ کریں کیونکہ اس کانفرنس کے انعقاد سے اسرائیل کے فلسطینیوں کے خلاف جاری جنگی جرائم، فلسطینیوں کے قتل عام، ان کی جبری ملک بدری، نسل پرستانہ پالیسیوں اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہوگی۔
