فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فیصلے کے مطابق یہودی آبادکاروں پر مشتمل شہر مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی نمائندہ کونسل تشکیل دی جائیں گی۔ یہ کونسلز شہر کی فلسطینی میونسپل کمیٹی سے ہٹ کر ہو گی۔
حماس کے ترجمان عبداللطیف القانوع نے محولہ بالا اسرائیلی فیصلے کو تمام بین الاقوامی قوانین اور عالمی اداروں کے قواعد وضوابط کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے احکامات اسرائیلی حکومت کی انتہا پسندی کی طرف نشاندہی کرتے ہیں جس سے امتیازی پالیسیوں کو بڑھاوا ملتا ہے۔
عبرانی اخبار یروشیلم پوسٹ نے گذشتہ بدھ اپنی اشاعت میں دعوی کیا تھا کہ اسرائیلی وزیر جنگ آویڈور لائیبرمین نے جنوب مغربی کنارے کے شہر الخلیل کے وسطی علاقے میں مقیم صہیونی آبادکاروں کو فلسطینی میونسپل کمیٹی کے فیصلوں سے مستغنی قرار دے دیا تھا۔ یہ اعلان اسرائیلی وزیر نے فلسطینی حکام سے مشورے اور رائے لئے بغیر یکطرفہ طور پر کیا۔
اخبار کا کہنا ہے کہ نئے انتظامات کے تحت آباد کار پانی سمیت دیگر شہری سہولیات شہر کی صہیونی انتظامیہ سے براہ راست حاصل کر سکیں گے۔ فیصلے کے مطابق الخلیل کے صہیونی آبادکاروں پر مشتمل کالونی میں ایک نمائندہ کونسل بنائی جائی گی جو خودمختار ہو گی۔ الخلیل شہر میں آٹھ سو صہیونی آبادکاروں سمیت دو لاکھ فلسطینی آباد ہیں۔
