جانبین سے رابطوں کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ اردن کسی طور بھی عمّان میں عنات شلائن کا دوبارہ استقبال کرنا نہیں چاہتا ہے۔ اس کی وجہ وہ تصاویر ہیں جو شلائن نے وزیر اعظم نتین یاہو کے استقبال کی تقریب کے دوران زیف مویال کے ساتھ بنوائی تھیں۔
باخبر ذرائع کے اندازے کے مطابق اگر اسرائیل دوبارہ سے اردن کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کا خواہش مند ہے تو اس کے سامنے شلائن کی قربانی دینے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہو گا۔
کہا جا رہا ہے کہ اردن اور اسرائیل کے درمیان تعلقات گہرے جمود کا شکار ہو چکے ہیں اور داخلے کے لیے ویزے بھی جاری نہیں کیے جا رہے ہیں۔ اردن میں رہنے والے ہزاروں اردنی اور فلسطینی باشندے ہیں جو اسرائیل اور مغربی کنارے میں داخل نہیں ہو سکتے۔ عمان میں اسرائیلی سفارت خانے میں اس وقت 163 اردنی پاسپورٹ موجود ہیں جن کو ان کے حاملین نے ویزے کے لیے اسرائیلی سفارت خانے میں جمع کرایا تھا۔ مذکورہ واقعہ پیش آنے اور سفارت خانے کے خالی ہونے کے بعد یہ پاسپورٹ ابھی تک جوں کے توں پڑے ہیں۔
دوسری جانب مصر میں اسرائیلی سفیر ڈیوڈ گوورن اور سفارت خانے کے عملے کے آٹھ ارکان آٹھ ماہ کی غیر حاضری کے بعد منگل کے روز دارالحکومت قاہرہ واپس آ گئے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے اس موضوع پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
