فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق الشیخ رائد صلاح کی طرف منسوب کردہ الزامات میں ایک ممنوعہ تنظیم کی رکنیت، اس کی سرگرمیوں میں شامل ہونے۔ اسرائیل کے خلاف نفرت اور تشدد پر اکسانے اور اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بننے جیسے الزامات Â شامل ہیں۔
ان کی تازہ گرفتاری مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی پابندیوں کے خلاف فلسطینی تحریک میں ان کا موثر کردار ہے۔ صہیونی ریاست ان کے اس جاندار کردار سے سخت خوف کا شکار ہے۔
’قدس پریس‘ کے مطابق الشیخ رائد صلاح کے وکیل خالد الزبارقہ کا کہنا ہے کہ صہیونی عدالت نے الشیخ رائد صلاح کے جسمانی ریمانڈ میں پرسوں جمعرات تک کی توسیع کا حکم دیتے ہوئے انہیں پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔
جمعرات کو اسرائیلی پراسیکیوٹر جنرل الشیخ رائد صلاح کے خلاف نام نہاد الزامات کی چارج شیٹ اور فرد جرم پیش کرے گا۔
انسانی حقوق گروپ نے الشیخ رائد صلاح کی سرگرمیوں کو آئینی اور قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں عالمی برادری سے انہیں ہرممکن تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عرب ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ الشیخ راید صلاح کی جان کو خطرہ ہے۔ وہ عمر رسیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ کئی بیماریوں کا بھی شکار ہیں۔
حال ہی میں ایک انسانی حقوق کی تنظیم نے دعویٰ کیا تھا اسے مصدقہ ذرائع سے یہ اطلاع ملی ہے کہ دوران حراست وحشیانہ تشدد کرنے کے بعد ایک اسرائیلی فوجی افسر نے الشیخ رائد صلاح کو قتل کی دھمکی دی ہے اور ساتھ ہی اس کا کہنا ہے کہ وہ انہیں قتل کرکے یہ مشہور کردیں گے کہ رائد صلاح کی طبعی طور پر انتقال کر گئے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ صہیونی تفتیش کار جب الشیخ رائد صلاح کو قبلہ اوّل کے دفاع کی سرگرمیوں سے باز رکھنے میں ناکام رہے تو انہوں نے وحشیانہ تشدد اور قتل کی دھمکیوں کے ذریعے دہشت زدہ کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔
خیال رہے کہ بزرگ فلسطینی رہنما الشیخ رائد صلاح کو اسرائیلی فوج نے 15 جولائی کو ان کے آبائی شہر ام الفحم سے حراست میں لیا تھا۔ اسرائیلی خفیہ ادارے شاباک کے اہلکاروں نے الزام عائد کیا ہے کہ الشیخ رائد صلاح اسرائیل کے خلاف نفرت اور تشدد کو بھڑکانے اور صہیونیوں کے قتل پرفلسطینیوں کو اکسانے کے ذمہ دار ہیں۔
