فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فلسطینی محکمہ امور اسیران کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے روزانہ کی بنیاد پر فلسطینی شہریوں کی گرفتاریوں کے لیے اجتماعی کریک ڈاؤن جاری رکھا۔ پورے پورے فلسطینی خاندانوں کو پابند سلاسل کیا گیا۔
محکمہ امور اسیران کے چیئرمین عیسیٰ قراقع نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ صہیونی فوج نے فلسطینیوں کو ہراساں کرنے کے لیے ان کے خلاف اجتماعی کریک ڈاؤن کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ اسرائیلی فوج کی بھاری نفری کسی ایک فلسطینی قصبے کو گھیرے میں لے کر گھر گھر تلاشی کی کارروائیوں کے دوران نہتے فلسطینیوں کو زدو کوب کرتی، گھروں میں توڑپھوڑ کرتی اور لوٹ مار کے ساتھ فلسطینی شہریوں کو بغیر کسی الزام کے حراست میں لینے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ فلسطینی شہریوں کی اجتماعی گرفتاریاں عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ اسرائیلی فوج جس بے دردی کے ساتھ نہتے فلسطینیوں کو حراست میں لیتی اور انہیں انسانیت سوز مظالم کانشانہ بنا رہی ہے وہ بین الاقوامی اخلاقیات اور عالمی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
عیسیٰ قراقع کا کہنا ہے کہ اس وقت اسرائیلی زندانوں میں 6400 فلسطینی پابند سلاسل ہیں۔ ان میں 10 کم عمر بچیوں سمیت 62 خواتین، 300 بچے اور 450 انتظامی حراست کے قیدی شامل ہیں۔ اسیران میں فلسطینی پارلیمنٹ کے 12 منتخب ارکان بھی شامل ہیں۔
