فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق صہیونی فوج اور پولیس کی طرف سے مسجد اقصیٰ کی بندش اور اس کے باہر اسکینر لگانے کے خلاف احتجاج کرنے والے 72 فلسطینی نمازیوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔
مقامی فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ صہیونی فوج کی طرف سے باب الاسباط کے مقام پر رہنے والے فلسطینی مرابطین اور مسجد اقصیٰ کے نمازیوں کا تعاقب شروع کررکھا ہے۔ مسجد اقصیٰ کے باہر احتجاج اور دھرنے میں حصہ لینے والے ستر سے زاید فلسطینی حراستی مراکز میں بند ہیں جہاں ان پر تشدد کیا جا رہا ہے۔
ادھر اسرائیلی پولیس کی خاتون ترجمان لوبا السمری نے بتایا کہ مسجد اقصیٰ کے باہر دھرنا دینے کے الزام میں گرفتار کیے گئے 43 فلسطینیوں کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے فرد جرم تیار کرلی گئی ہے۔ جلد ہی ان کے خلاف فرد جرم عدالت میں پیش کی جائے گی۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ بیت المقدس کے ان مشتبہ فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا ہے جو سیکیورٹی فورسز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے اور تفتیشی عمل میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔
عبرانی ٹی وی 7 کے مطابق زیرحراست فلسطینی نمازیوں پر کار سرکار میں مداخلت کے الزام کے تحت فرد جرم عائد کی جا رہی ہے۔
