فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایک بیان میں ڈاکٹر محمود الزھار نے کہا کہ سنہ 2005ء کے بلدیاتی اور 2006ء کے پارلیمانی انتخابات میں حماس اور اسلامی جہاد نے بھاری اکثریت حاصل کی اور دونوں جماعتوں کے جیتنے والے امیدواروں کی تعداد دوسروں کی نسبت زیادہ ہے۔ اس لیے فلسطین میں حقیقی معنوں میں حماس اور اسلامی جہاد نمائندگی کرتی ہیں۔ فلسطینی نیشنل کونسل کے فیصلے باطل ہیں۔
ڈاکٹر الزھار نے کہا کہ نیشنل کونسل ان گروپوں کی نمائندگی کرتی ہے جن کے پاس عوامی حمایت نہیں۔ اس کونسل کو بروئے کار لانے کا مقصد سنہ 2009ء سے غیر قانونی ہونے والے صدر محمود عباس کے فیصلوں پرعمل درآمد کرانا ہے۔ حماس موجودہ نیشنل کونسل کو غیرآئینی اور اس کے فیصلوں کو باطل قرار دیتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی قوم اور عرب ممالک بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ محمود عباس فلسطینی قوم کے حقیقی نمائندہ نہیں ہیں۔ اس کی مثال مصر میں لی جاسکتی ہے جس نے فلسطینی نیشنل کونسل کے نئے انتخابات کا مطالبہ کیا مگر محمود عباس نے مصری مطالبہ بھی مسترد کردیا ہے۔
