بیروت – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) جنوبی افریقہ کی حکومت نے آئندہ ماہ اکتوبر میں اسرائیل اور مغربی افریقی ملکوں کی سربراہ کانفرنس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق لبنان میں متعین جنوبی افریقہ کے سفیر شون بینفلڈٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملکہ ٹوگو میں اکتوبر کے آخر میں ہونے والی اسرائیل افریقا سربراہ کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کانفرنس کا مقصد فلسطینی قوم کے مطالبات اور ان کے حقوق کی قیمت پر صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات استوار کرنا ہے۔ جنوبی افریقہ ایسے کسی اتحاد کا حصہ نہیں بنے گا جس میں فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کی نفی کی جائے گی۔بیروت میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کے سفیر نے کہا کہ جوہانسبرگ نہ صرف خود اسرائیل ۔ افریقہ سربراہ کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا بلکہ دوست ممالک کے سفارت خانوں کے ذریعے انہیں بھی اس میں عدم شرکت پرآمادہ کرے گا۔
خیال رہے کہ اسرائیل افریقی شہر ’توگو‘ میں ہونے والی اسرائیل ۔ افریقہ سربراہ کانفرنس خطے میں صہیونی ریاست کے اثرو نفوذ میں اضافے اور معاشی دراندازی کا ایک انتہائی خطرناک اقدام ہے، جو عالم اسلام اور عرب دنیا کی کم زوری کی قیمت پر اٹھایا جا رہا ہے۔
صہیونی ریاست اور افریقی قیادت کے درمیان 23 سے 27 اکتوبر 2017ء تک ہونے والی یہ کانفرنس اپنی نوعیت کی پہلی پیش رفت ہے۔ اس کانفرنس کا Â مقصد اسرائیل اور افریقی ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعاون اور بھائی چارے کو فروغ دینا۔ سیکیورٹی اور دفاعی دفاعی کے نئے معاہدے کرنا اور افریقی ملکوں میں اسرائیلی اسلحے کے انبار لگانا شامل ہے۔
افریقی ملکوں اور اسرائیل کے درمیان منعقد ہونے والی یہ کانفرنس بہ ظاہر سیکیورٹی اور ’انسداد دہشت گردی‘ کے موضوعات کو محیط ہوگی تاہم اس کانفرنس میں زراعت، توانائی، آبی وسائل ،صحت، سماجی بہبود کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی اس کے اہم موضوعات ہوں گے۔
جنوبی افریقہ کی جانب سے اس کانفرنس کے بائیکاٹ پر فلسطینی سیاسی حلقوں کی طرف سے خیر مقدم کیا گیا ہے۔
