فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ صہیونی فوج نے مسجد اقصیٰ کو بند کرنے کے بعد اس کے اندر اور اطراف میں موجود تمام اداروں، اس کی املاک، مخطوطات، دو بڑی لائبریریوں، تاریخی عجائب گھر، الماریوں، ریکارڈ روم اور نمائش ہال میں بڑے پیمانے پر توڑپھوڑ کی۔ ریکارڈ کو زمین پر پھینکا گیا۔ دینی کتب کی بے حرمتی کی گئی۔ اسرائیلی فوج کی وحشیانہ تلاشی کی کارروائیوں میں مسجد کا کوئی کونہ اور ادارہ محفوظ نہیں رہا ہے۔
بیان میں مسجد اقصیٰ اور اس کے اداروں میں کی گئی توڑپھوڑ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی قوانین، انسانی اقدار اور مذہبی روایات و آسمانی مذاہب کی تعلیمات کے منافی قرار دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صہیونی فوج نے مسجد کے چندہ بکسوں اور دیگر مقفل الماریوں کے تالے توڑ کر وہاں پر موجود ریکارڈ اور ضروری مواد کو تلف کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مسجد کے اسلامی عجائب گھر پر اسرائیلی فوج نے تلاشی کی آڑ میں 14 اور 15 جولائی کے ایام میں کئی بار چھاپے مارے۔ ہرچیز تل پٹ کی گئی ہے تاہم تمام مخطوطات اور تاریخی دستاویزات موجود ہیں۔ انہیں چوری نہیں کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ صہیونی فوج اورپولیس نے الخنتنیہ لائبریری میں گھس کر ایک ایک الماری کے قفل توڑ کر وہاں پرموجود کتب اور تاریخی دستاویزات کو فرش پر بکھیر دیا۔ قبۃ الصخرہ کی تاریخی دستاویزات تلف کی گئیں۔ اور کیمرے کے لیے لگائے گئے سسٹم چوری کرلیے تاہم خواتین مسجد کی لائبریری، مخطوطات، مطبوعات، کتب، کمپیوٹر، بچوں کی لائبریری، فرنیچیر، چندہ بکس محفوظ ہیں۔ انہیں چوری نہیں کیا گیا۔
