فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حماس کے وفد نے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی کی دوسری بار حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی۔ بعد ازاں حماس کے وفد نے ایرانی مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے چیئرمین علی لاریجانی، وزیرخارجہ محمد جواد ظریف اور دیگر عہدیداروں سے ملاقات کی۔
ملاقات میں حماس اور ایران کے درمیان تعلقات کومزید مستحکم کرنے، گلے شکوے دور کرنے، قضیہ فلسطین کی حمایت میں اضافہ کرنے سمیت دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقاتوں میں حماس رہنما عزت الرشق نے فلسطینی قوم کی تحریک آزادی کی حمایت کرنے پر تہران کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ حماس ہمیشہ عالم اسلام کے درمیان رابطے بڑھانے، فرقہ واریت اور قومیت سے بالا تر ہوکر ایک امت کے تصور کو اجاگر کرنے کے لیے کوشاں رہی ہے۔
علی لاریجانی سے ملاقات کے دوران حماس رہنما نے کہا کہ حماس کے خارجہ تعلقات قضیہ فلسطین کی حمایت کی اساس پرقائم ہیں۔ ہر وہ ملک، قوم اور جماعت جو فلسطینیوں کے دیرینہ حقوق اور مطالبات کی حمایت کرتی ہے، اس کے ساتھ حماس دوستانہ تعلقات استوار کرنا چاہتی ہے۔
اس موقع پر علی لاریجانی نے کہا کہ ان کا ملک فلسطینیوں کے حقوق بالخصوص حق خود ارادیت کے حصول کے لیے جاری جدو جہد کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی مزاحمتی قیادت کے لیے ایران کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔ ایران حماس سمیت تمام فلسطینی قوتوں کا ہمیشہ خیر مقدم کرے گا۔
بعد ازاں حماس کے قائدین نے ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں حماس اور ایرانی وزیرخارجہ نے تعلقات کا ایک نیا باب قائم کرنے سے اتفاق کیا۔ ایرانی وزیرخارجہ نے حماس کی قیادت کو ایران کے دورے پر خوش آمدید کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں میں فلسطینی قوم کی حمایت ایک اہم اصول کے طور پر شامل ہے۔ ایران تمام فلسطینی تنظیموں کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات قائم رکھنا چاہتا ہے۔
حماس کے وفد نے تہران میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر برائے عالمی امو ڈاکٹر علی اکبر ولایتی سے بھی ملاقات کی۔
حماس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی قیادت سے ملاقات کے دوران تہران نے حماس کی مکمل حمایت اور ہرممکن مدد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی قیادت نے اسماعیل ھنیہ کی قیادت میں حماس کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ ایران حماس سمیت تمام فلسطینی مزاحمتی قوتوں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔
